پاکستان میں جنگلا ت کا رقبہ سمٹ کر صرف 2فیصد رہ گیا، بین الاقوامی معیار کے مطابق جنگلات کا رقبہ 25فیصد ہونا ضروری ہے ،ماہرین زراعت

بدھ ستمبر 15:19

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) ماہرین زراعت و جنگلات نے بتایا کہ پاکستان میں جنگلا ت کا رقبہ سمٹ کر صرف 2فیصد رہ گیا ہے جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق جنگلات کا رقبہ 25فیصد ہونا ضروری ہے۔ انہوںنے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو جن وسائل سے مالا مال کیا ہے انہیں حقیقی معنوں میں بروئے کار لا کر زرعی ترقی اور غذائی استحکام کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ آبادی کے بڑھتے ہوئے دبائو اور زراعت کیلئے سمٹتے ہوئے زمینی وسائل نے جس عدم توازن کو فروغ دیا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہر سیکنڈ کے بعد دنیا میں تین نئے بچے پیدا ہو رہے ہیں اور ہر ایک منٹ کے بعد ایک ہیکٹر قطعہ زرعی اراضی رقبے میں سے کم ہو کر شہری آباد ی کے علاوہ صنعتی مقاصد کی نذر ہو رہا ہے ۔ انہوںنے مورنگا کو 21ویں صدی کا معجزاتی پودا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پودے میں قدرت نے تما م قوتیں یکجا کر دی ہیں ۔ انہوں نے ابلاغیاتی مہارت سے عام کسان تک جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔