کاشتکارکماد کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے گنے کی زیادہ سے زیادہ کاشت یقینی بنائیں، فی ایکڑ 1500 سی2000 من فی ایکڑ پیداوار کیلئے منظور شدہ اقسام بروقت کاشت کی جائیں، ماہرین زراعت

بدھ ستمبر 15:19

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) ماہرین زراعت نے کہا کہ کاشتکارکماد کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے گنے کی زیادہ سے زیادہ ستمبر کاشت یقینی بنائیں اور600کی بجائے فی ایکڑ 1500 سی2000 من فی ایکڑتک پیداوار کیلئے منظور شدہ اقسام بروقت کاشت کی جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ کماد کی اگیتی اقسام میں سی پی ایف 243 ،ایچ ایس ایف240 ،ایچ ایس ایف242، سی پی 77-400، سی پی ایف 237وغیرہ جبکہ درمیانی اقسام میں ایس پی ایف۔

245، ایس پی ایف۔234،ایس پی ایف 213، سی پی ایف246،سی پی ایف247 وغیرہ شامل ہیںجبکہ ایس پی ایف234 صرف راجن پور ، بہاولپوراور رحیم یار خان کے اضلاع کیلئے موزوں ترین قسم ہے اسی طرح سی او جے 84 پچھیتی تیار ہونے والی قسم ہے۔انہوں نے بتایا کہ کاشتکار کماد کی ممنوعہ اقسام ٹرائی ٹان،سی او ایل 54،سی او 1148 ) انڈین(، سی او ایل 29 ،سی او ایل 44، بی ایل4، ایل116، ایل118، ایس پی ایف238 اور بی ایف162 وغیرہ ہرگز کاشت نہ کریں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ کاشتکار فی ایکڑ 4 آنکھوں والے 13 تا 15 ہزار سمے یا3 آنکھوں والے 17تا 20 ہزار سمے ڈالیں۔انہوںنے کہاکہ یہ تعدادگنے کی موٹائی کے لحاظ سے تقریباً 100 تا 120 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوںنے بتایاکہ زمینوں میں نامیاتی مادہ کی کمی کے پیش نظر دیسی یا سبز کھاد کا استعمال بھی یقینی بنایا جائے اور گوبرکی گلی سڑی کھاد بحساب3 تا 4 ٹرالیاں (75 تا100 من ) یا پریس مڈ 2 تا4 ٹرالی فی ایکڑ ڈالی جائے۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار ہموار زمین میںگہرا ہل چلا کرمناسب تیاری کے بعد سہاگہ لگائیںاور پھر رجرکے ذریعے 10تا 12 انچ کی گہری کھیلیاں چار فٹ کے فاصلے پر بنائیںاور ان میں فاسفورسی اور پوٹاش کی کھادیں ڈالیں اور پھرسیاڑوں میں سموں کی دو لائنیں آٹھ تا نو انچ کے فاصلے پراس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوںاور پھران کو مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ کر ہلکا پانی لگا دیاجائے۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار مصنوعی کھادوں کا استعمال زمین کے تجزیہ کی بنیاد پر کریں اورتجزیہ کی عدم دستیابی کی صورت میںزمین کی بنیادی زرخیزی ،مختلف فصلات کی کثرت کاشت اور فصلات کی سالانہ ترتیب کومدنظررکھتے ہوئے کھادوں کا متناسب استعمال کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ کاشتکار مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :