احتساب کو سیاسی انجینئرنگ قراردینے کا تاثرخطرناک ہے. چیف جسٹس آف پاکستان

ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیوزم میں دلچسپی نہ لینے پرخوش نہیں‘سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشلزم کو بڑھا رہی ہے. جسٹس آصف سعید کھوسہ کا تقریب سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ ستمبر 14:46

احتساب کو سیاسی انجینئرنگ قراردینے کا تاثرخطرناک ہے. چیف جسٹس آف پاکستان
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 ستمبر۔2019ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیوزم میں دلچسپی نہ لینے پرخوش نہیں، معاشرے کا وہی طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیوزم پر تنقید کرتا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ ازخودنوٹس پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے. چیف جسٹس پاکستان نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جوڈیشل ایکٹیوزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشلزم کو بڑھا رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینئرنگ ہے، اس تاثر کے ازالے کے اقدامات کر رہے ہیں‘چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا. انہوں نے کہا کہ میں اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پراستعمال کیا جائے گا، جوکسی کے مطالبے پرلیا گیا وہ سوموٹو نوٹس نہیں ہوتا،جب ضروری ہوا یہ عدالت سو موٹو نوٹس لے گی.

چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے. انہوں نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے بجائے جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر زیر التوا مقدمات کی تعداد 1.81 ملین (18 لاکھ 10 ہزار) تھی لا اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق یہ تعداد کم ہو کر 1.78 ملین (17 لاکھ 80 ہزار) رہ گئی ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ میں 19 ہزار 751 مقدمات کا اندراج ہوا، گزشتہ سال عدالت عظمیٰ نے 57 ہزار 684 مقدمات نمٹائے‘ دنیا بھر میں پہلی بار سپریم کورٹ نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا. ای کورٹ سے سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اور رجسٹریاں منسلک ہوئیں امریکا میں سول ججز کی تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا. انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس دنیا کا مستقبل ہے‘ از خود نوٹس سے متعلق مسودہ آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک تیار کر لیا جائے گا مسئلے کو بھی ایک دفعہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا.

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین کام قرار دیا، انہوں نے کہا کہ آئین صدر کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے‘ سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کر سکتی. صدر کی کسی جج کے خلاف شکایت جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی، دوسری جانب کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے‘انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سپریم جوڈیشل کونسل میں نجی درخواستوں کی تعداد 56 تھی، گزشتہ سال کونسل میں 102 شکایات کا اندراج ہوا عدالتی سال میں کونسل میں 149 شکایات نمٹائی گئیں.

اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 9 شکایات زیر التوا ہیں 9 شکایات میں صدر مملکت کی جانب سے دائر 2 ریفرنس بھی شامل ہیں. چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صدر کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کر رہی ہے. سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ارکان اور چیئرمین اپنے حلف پر قائم ہیں کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباﺅ کے بغیر کام جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی توقع نہ رکھی جائے.