Live Updates

بینجمن نیتن یاہوکا غرب اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان ناقابل قبول ہے،سعودی عرب

بدھ ستمبر 16:05

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) سعودی عرب نے غرب اردن اور بحیرہ مردار سمیت مغربی کنارے کے بعض حصے ضم کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی ہے۔ایوان شاہی سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہوکی طرف سے کیا جانے والا اعلان خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک لے جانے کا باعث بنے گا۔

یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور ریاستی روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔سعودی حکومت نے اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے ہونے والے اعلان کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔اعلامیے کے مطابق خطے پر اسرائیلی فارمولے مسلط کرنے سے فلسطینی عوام کے اٹل اور ٹھوس حقوق سے دستبردار نہیں ہوا جاسکتا۔ سعودی عرب نے عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے اعلان کی مذمت کریں اور اسے مسترد کردیں۔

(جاری ہے)

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی وزیراعظم کے منصوبے کو مسترد کرنے کے ساتھ اس بات کی تاکید بھی کرتے ہیں کہ گو کہ عرب اور اسلامی ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں مگر یہ بحران فلسطین کے قضیے کو ثانوی حیثیت نہیں دیںگے۔عرب ممالک امن تجاویز کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کے خواہاں ہیں تاہم ان کا یہ موقف اسرائیل کی طرف سے کئے جانے والے یکطرفہ اقدامات کو قبول کرنے کا باعث نہیں ہوگا۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ان تمام حالات کی روشنی میں ہم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے تحت وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ وہ اس موضوع کا جائزہ لے اور ہنگامی بنیادوں پر عرب ممالک کی طرف سے ممکنہ اقدامات کا منصوبہ بنائے۔سعودی عرب نے اسرائیل کے منصوبے کے حوالے سے کہا کہ اس طرح کا اقدام خطے میں امن قائم کرنے کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کردے گا، خطے میںپائیدار امن مقبوضہ فلسطینی ریاست کی آزادی اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے بغیر ممکن نہیں۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ اگر وہ 17 ستمبر کو ہونے والے انتخابات جیت گئے تو غرب اردن اور بحیرہ مردار کے شمالی علاقے کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنائیں گے۔
سعودی آئل ریفائنری پر حملہ سے متعلق تازہ ترین معلومات