وزیراعظم ایوان میں آکر سوالوں کے جواب دینے کے خواہشمند

وزیراعظم نے ایوان میں آنے کا کہا تھا لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ ملک مسلسل مسائل کا شکار ہے۔ ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر کی وزیراعظم کے ایوان میں نہ آنے پر وضاحت

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 14:57

وزیراعظم ایوان میں آکر سوالوں کے جواب دینے کے خواہشمند
اسلام آ باد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 ستمبر 2019ء) : وزیراعظم عمران خان کے قومی اسمبلی میں نہ آنے پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل بڑے بڑے دعوے کیے تھے جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ہفتے میں ایک بار ایوان میں آکر سوالوں کے جوابات دیں گے،وزیراعظم کے اس اعلان کو خوب سراہا گیا تاہم وہ یہ وعدہ وفا نہ کر سکے جس پر ان پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔

اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایوان میں آنے کا کہا تھا۔لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔کیونکہ ملک مسلسل مسائل کا شکار ہے۔ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان خود ایوان میں آکر مسائل سن کر ان کا جواب دینا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما ن فردوس عاشق اعوان نے عمران خان کے پارلیمنٹ میں نہ آںے کی انوکھی وجہ بتائی تھی۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جب تک ایوان مکمل نہیں ہوتا وزیراعظم عمران خان وہاں آکر کیا کریں گے۔ ایوان پورا نہ ہونے پر عمران خان ان کی نورا کشتی دیکھنےآئیں گے کیا؟۔اور ایوان اس وقت مکمل ہو گا جب سٹیڈنگ کمیٹیز پوری ہوں گی لیکن اس کے باوجود عمران خان قومی اسمبلی میں آئے اور پھر جو وہاں ہوا سب نے دیکھا۔اپوایشن کا رویہ سنجیدہ ہونا چاہئیے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما کی طرف سے بھی اکثر کہا جاتا ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں آتے ہیں تو اپویشن رہنما شور شرابا کرتے ہیں اس لیے ان کا ایوان میں آنے کا فائدہ نہیں واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ ہر ہفتے کو قومی اسمبلی میں بھی جوابدہ ہوں گے۔ بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ہر ہفتے ایک گھنٹہ ارکان اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیں گے۔

حکومت نے وزیراعظم آورکو اسمبلی کے قواعد کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے ترمیم قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کی تھی۔ دستیاب ہونے کی صورت میں اجلاس کے ہر پہلی بدھ کو وزیراعظم ارکان کے سوالات کے جواب دیں گے تاہم وزیراعظم یہ وعدہ وفا نہ کر سکے جس پر انہیں اپوزیشن کی جانب سے تنقید بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔