سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا

بدھ ستمبر 16:20

سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔لاہور دجسٹری سے وکلاء ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دئیے۔ وکیل مقتول نے کہاکہ یہ واقعہ زمیں کے تنازع پر ضلع بکھر میں پیش آیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ فریقین کے درمیاں جو صلح ہو ئی تھی ان میں کون کون شامل تھا۔

وکیل ملزم نے کہاکہ نسیم بی بی فوت ہو گئی تھی اس کے ورثا نے ملزم کو معاف کر دیا تھا۔ وکیل ملزم نے کہاکہ زبیدہ بی بی نے بھی ملزمان کو معاف کر دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ انڈین قانون میں ترمیم کر کے ورثا کے ورثا کی صلح کو قابل قبول بنایا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے بھی پارلیمنٹ کو تجویز دی ہے کہ اس قانون میں ترمیم کریں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ورثا کے ورث صلح نہیں کر سکتے۔

وکیل مقتول نے کہاکہ ملزم سیف اللہ اور اسکے بھائیوں کے درمیان زمین کی تقسیم کا تنازعہ تھا۔ وکیل مقتول نے کہاکہ سیف اللہ نے جھگڑے کے دوران پہلے ایک بھائی پر فائر کیا دوسر بھاگا تو اسکے پچھے جا کر اس پر بھی فائرنگ کی،اس واقعے میں تین قتل ہوئے۔وکیل مقتول نے کہاکہ ملزم کی بھائی نسیم بی بی بھی جھگڑے میں زخمی ہو ئی ایک ماہ بعد فوت ہو گئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر زخمی وکٹم پیش نہ ہو تو سزا نہیں ہو سکتی۔دلائل سننے کے بعدسپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ٹرائل کورٹ نے دو بھائیوں کے قتل کے ملزم سیف اللہ کو سزائے موت سنائی تھی۔ہائی کورٹ نے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔