گلابی سنڈی کا حملہ 15ستمبر کے بعد زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے، ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان

بدھ ستمبر 16:22

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے کاشتکاروں سے کہا ہے کہ کپاس کی فصل جلد پک کر تیار ہونے والی اقسام کی وجہ سے پنجاب میں گلابی سنڈی کا حملہ بھی جلدی شروع ہو جاتا ہے اور 15ستمبر کے بعد اس کاحملہ شد ت اختیا ر کر لیتا ہے۔ اس کا نقصان معلو م کر نے کے لیے کپا س کے کھیتوں سے 14سے 28دن کے 100عد د سبز ٹینڈ ے تو ڑ لیں، یہ ٹینڈے نہ ہی زیا دہ نر م ہو ں اور نہ ہی زیا دہ سخت، ان ٹینڈو ں کو لمبائی کے رخ کاٹ کر ان میں مو جو د گلا بی سنڈیا ں یا ان سے متاثرہ ٹینڈے گن لیں اگر نقصان یا سنڈیوں کی تعداد معاشی نقصان کی حد تک پہنچ جا ئے تو بلا تا خیر منا سب حشرات کش ادویا ت کا چھڑ کا ئو کریں۔

انہوں نے بتایاکہ گلابی سنڈی کے نقصان اور سنڈیوں کی تعداد کا پتہ لگانے کے لئے روایتی اقسام والا طریقہ ہی اختیار کیا جائے تاہم اس میں نقصان کی بجائے زندہ سنڈیوں کو اہمیت دی جائے کیونکہ اس میں انڈے سے نکلنے والی سنڈی پھلدار حصوں کو کھانے کی صورت میں ہلاک ہو جائے گی، اگر ٹینڈوں یا پھولوں میں دوسرے درجے کی سنڈیاں زندہ پائی جائیں تو روایتی اقسام کی طرح معاشی نقصان کی حد پر سپرے کریں، پیسٹ سکاؤٹنگ ہر کھیت میں ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ضرور کی جانی چاہئے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر زاہد محمود نے گلابی سنڈی کے خلاف سفارش کردہ زہروں مثلا سپنٹورام100ملی لیٹر یاٹرائی ایزوفاس1000ملی لیٹر یاڈیلٹا میتھرین350ملی لیٹر یا بائی فینتھرین330ملی لیٹر بحساب100-120لیٹر پانی میں فی ایکٹر کے حساب سے سپرے کی تجویز دی ہے۔