پنجاب میں 21 ارب 27کروڑ روپے کی لاگت سے ز رعی ماڈل من-ڈیوں کے قیام کامنصوبہ

بدھ ستمبر 16:32

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے تحت حکومت پنجاب وفاقی حکومت کے تعاون سے 65ارب روپے کے تاریخی زرعی منصوبہ جات کا آغاز کررہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت کے مختلف شعبوں کے تحت جاری منصوبوں پر پیشرفت کے سلسلہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل پر کھیت کی سطح پر زرعی اجناس کی پیداوار میں مستقل بنیادوں پر اضافہ سے کاشتکاروں کی آمدن اورمنافع میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان مثالی منصوبوں کے تحت 21ارب 27کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب بھر میں ز رعی ماڈل من-ڈیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے کاشتکاروں کے لئے اپنی زرعی پیداوار کی فروخت میں آسانی پیدا ہوگی اور وہ اپنی اجناس کا معقول معاوضہ حاصل کرسکیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 5ارب روپے کی لاگت سے سورج مکھی، کینولا اور تِل کی کاشت پر سبسڈی جاری رکھی جائے گی تاکہ تیلدار اجناس کے زیر کاشت رقبے میں اضافہ سے خوردنی تیل کی پیداوار بڑھا کر درآمدی بل کو کم کیا جائے۔ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار میں اضافہ کے لیے 15ارب 49کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جارہی ہے جس سے فوڈ سیکیورٹی میں مدد کے ساتھ ان اجناس کی برآمدات میں اضافہ سے قیمتی زرمبادلہ کا حصول ممکن ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے باکفایت استعمال اور آبپاش زراعت کی پیداوار بڑھانے کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے ڈرپ وسپرنکلر نظام آبپاشی کی تنصیب اور آبپاش کھالوں کی پختگی کے لئے وسائل کی فراہمی جاری رہے گی جس سے آبپاشی کے جدید طریقوں کو فروغ دینے کے ساتھ دستیاب پانی کا باکفایت استعمال ممکن ہوگا۔ اس طرح کم لاگت اور پانی کی بچت سے زیادہ پیداوار کا ہدف بھی حاصل کیا جائے گا۔

اسی وژن کے تحت بارانی ایریا میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی لاگت سے چھوٹے اور منی ڈیمز کے کمانڈ ایریا کو بھی بڑھایا جائے گا۔ صوبائی سیکرٹری زراعت نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کلائمیٹ سمارٹ مشینی زراعت کے فروغ کے لیے 2ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں تاکہ دور حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوکر زرعی پیداوار میں فی ایکڑ اضافہ کیا جاسکے۔ ان منصوبوں کے علاوہ ایگری کریڈٹ سمارٹ کارڈ بھی کاشتکاروں کو فراہم کئے جا رہے ہیںجس سے کاشتکارحکومتی سبسڈی سے براہ راست مستفید ہو سکیں گے۔