پنجاب میں جعلی زرعی ادویات کے خلاف کریک ڈائون جاری

تین ماہ میں 20 کروڑ روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات پکڑی گئیں،10فیکٹریاں بند

بدھ ستمبر 16:32

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) پنجاب بھر میں تین ماہ کے مختصر عرصہ میں 20 کروڑ روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات قبضہ میں لے کر اس گھنائونے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ گزشتہ ماہ 10 جعلی زرعی ادویات بنانے والی فیکٹریوں پر چھاپے مار کر انہیں بند کیا گیا۔ ذرائع نے ’’اے پی پی‘‘کو بتایا کہ اس عرصہ میں مہنگے داموں کھاد فروخت کرنے والوں کو 2 کروڑ روپے کے جرمانے بھی کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے قومی خبر ایجنسی کو بتایا کہ پنجاب زرعی ٹاسک فورس نے شکایات درج کرانے کا نیا سسٹم متعارف کرایا ہے۔

(جاری ہے)

اب کاشتکار اپنے موبائل فون سے بذریعہ ایس ایم ایس/ واٹس ایپ اپنی شکایات حکام اعلیٰ تک پہنچا سکتا ہے۔ جس پر 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع نے مزید بتایاکہ رواں برس راولپنڈی ڈویژن میں مقررہ قیمت سے زائد کھادوں کی فروخت پر 7 لاکھ 23 ہزار روپے کے جرمانے کیے گئے اور اس کے علاوہ 17 جعلی کھادوں کا کاروبار کرنے والے ڈیلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔اسی طرح راولپنڈی ڈویژن میں اس سال 14 لاکھ 70 ہزار 633 روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات قبضہ میں لی گئیں جن میں سے 6 لاکھ 90 ہزار 6سو 33 روپے کی ضلع راولپنڈی سے قبضہ میں لے کر ڈیلروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ 12 زرعی ادویات ڈیلروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔