مقررہ قیمت سے زائد پر زرعی مداخل فروخت کرنیوالے ڈیلرز سے کو ئی رعایت نہیں برتی جائیگی، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت

بدھ ستمبر 18:37

لاہور۔11 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) جعلی زرعی مداخل فروخت کرنے والے مافیا کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا رہا ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کوان کے منطقی انجام تک پہنچایا جا رہا ہے۔مقررہ قیمت سے زائد پر زرعی مداخل فروخت کرنے والے ڈیلرز سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل سیکرٹری زراعت ٹاسک فورس پنجاب رانا علی ارشد نے راولپنڈی ڈویژن میں ضلع راولپنڈی اورضلع چکوال کے دورے کے دوران کیا ۔

دورہ کے دوران انہوں نے ضلع چکوال میں زراعت توسیع اور پیسٹ وارننگ کے زرعی انسپکٹر کیپسٹی بلڈنگ ٹریننگ اور جائزہ اجلاس کی صدارت کی ۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کو سہولیات پہنچانا محکمہ زراعت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ۔

(جاری ہے)

جعلی اور ناقص زرعی ادویات اور کھادوں سے کاشتکاروں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوتا ہے ۔اور اس حوالے سے ان جعلی زرعی مداخل کی روک تھام کے لیے زرعی انسپکٹرز اور فیلڈ عملہ کو پوری محنت اور دیانتداری سے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے تین ماہ کے اندر پنجاب بھر میں جعلی کھادوں اور زرعی ادیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف ریکارڈ دقانونی کارروائیاں کی ہیں۔ ہم نے شکایات کا نیا نظام متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے کاشتکار کسی بھی وقت وٹس ایپ نمبر 03002955539پر اپنی شکایات بذریعہ پیغام یا ویڈیو بھیج سکتے ہیں۔ اور اس پر کارروائی چوبیس گھنٹے کے اندر عمل میں لائی جاتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ زراعت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کاشتکاروں کی خدمت سے سرشار ہو کر اپنے دفاتر سے نکلیں اور گائوں گائوں جا کر کاشتکاروں کے مسائل حل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ عنقریب میں اور میری ٹیم خطہ پوٹھوہار میں گائوں گائوں دورہ کریں گے اور کاشتکاروں کی دہلیز پر مسائل حل کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین مہینوں میں زرعی ادویات بنانے والی 11فیکٹریوں کو بند کر دیا گیا اور جعلی زرعی ادویات اور کھادوں کا کاروبار کرنے کے خلاف کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام زرعی افسران اور عملہ وسائل کا باکفایت استعمال کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں ۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس رانا علی ارشد کو بریفنگ دیتے ہوئے زراعت توسیع کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد جعفر نے بتایا کہ رواں سال کھادوں کا مقررہ قیمتوں سے زائدبیچنے والے ڈیلروں کے خلاف ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے کے جرمانے کیے گے ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈ سمینہ خالد نے بتایا کہ رواں برس ضلع چکوال میںجعلی زرعی ادویات کا کاروبار کرنے والے ڈیلروں کے خلاف آٹھ لاکھ چھتیس ہزار روپے کے جرمانے کیے گئے ہیں۔