یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا،ملک بھر میں ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ہوئے

ڈبل سواری پر پابندی ،موبائل فون سروس جزوی معطل ، تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذرہی وفاقی ،صوبائی حکومتوں کی طرف سے فول پروف سکیورٹی انتظامات ،مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول رومز قائم ،فضائی نگرانی کی جاتی رہی

بدھ ستمبر 18:43

لاہور/اسلام آباد/کراچی/کوئٹہ/پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) نواسہ رسول ؐحضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اوران کے ساتھیوں کی اسلام کی سربلندی اور حق وصداقت کیلئے میدان کربلا میں دی گئی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا ۔ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں میں ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ئے ،مرکزی امام بارگاہوں سے برآمد ہونے والے ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے 10محرم الحرام کومنزل مقصود پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے جس کے بعدشام غریباں برپا کی گئیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے سکیورٹی کیلئے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ ماتمی جلوسوں کے روٹس اور اطراف میں موبائل فون سروس جلوسوں کے اختتام تک معطل رہی ۔

(جاری ہے)

ملک بھر میں امن وامان کو یقینی بنانے کی غرض سے پولیس کے ساتھ پاک فوج ، رینجرز اور ایف سی کے دستے بھی حفاظتی ڈیوٹیوں پر تعینات رہے ۔لاہور ، کراچی ، پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں دس محرم کو بھی ڈبل سواری پر مکمل پابندی عائد رکھیگئی ۔

مرکزی جلوسوں میں شامل ہونے والے عزاداروں کو جامع تلاشی کے بعد شامل ہونے کی اجازت دی گئی ۔جلوسوں کے راستوں میں آنے والے تجارتی مراکز اور رہائشگاہوں کی جامع تلاشی کے بعد ان کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کئے گئے ۔عاشور کے موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے امام بارگاہوں، مساجد، عبادت گاہوں اور مزارات کی سکیورٹی بھی سخت رکھی گئی جبکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کے پیش نظر تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ رہی ۔

پنجاب میں جلوسوں کے روٹس اور حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ۔صوبائی، ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر کنٹرول رومز قائم کئے جبکہ جلوسوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے 4 درجاتی حصار بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں، جنریٹرز، لائٹس، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور دیگرآلات کا استعمال کیا گیا۔ دسویں محرم کے موقع پر بھی صوبہ بھر میں ڈبل سواری پر مکمل پابندی عائد رہی ۔

جبکہ وفاق کی جانب سے مہیا کئے گئے چار ہیلی کاپٹرز کے ذریعے عاشورہ کے جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی جن میں دوہیلی کاپٹرز لاہور جبکہ ایک ملتان اور ایک راولپنڈی میں استعمال کیا گیا۔ محرم کے دوران صوبہ میں 33356 مجالس اور 8674 جلوس نکالے گئے جس کے لئے آرمی کے 6560، رینجرز کے 3120 جوانوں نے سکیورٹی کے فرائض سر انجام دئیے جبکہ پولیس کے 232328 اہلکاراور138335 رضاکار سکیورٹی کے فرائض کے لئے تعینات رہے ۔

جلوسوں میں عزادار ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کرتے رہے۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علمدار روڈ پر بھی انتہائی سخت سکیورٹی میں یومِ عاشور کا جلوس نکالا گیا جس کے شرکا ء نے باچا خان چوک پر پہنچ کر نمازِ ظہرین ادا کی۔بعدا ازاں جلوس لیاقت بازار، پرنس روڈ اور دیگر روایتی راستوں سے گزرتا ہوا علمدرار روڈ آباد پر اختتام پذیر ہوا۔

دوسری جانب کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات سے چھوٹے ماتمی جلوس نکالے گئے جو علمدار روڈ پر دیگر جلوسوں میں شامل ہوئے۔کراچی سمیت سندھ بھر میں 10 محرم الحرام کے سلسلے میں جلوس نکالے گئے جن کی سکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو حسینیہ ایرانیہ امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

جلوس کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی کے ساتھ پریڈی اسٹریٹ لائن پہنچے اور جلوس کی قیادت بھی کی۔بعدازاں وزیراعلی سندھ سکھر روانہ ہوئے جہاں انہوں نے سکھر، روہڑی، خیرپور، کوٹ ڈیجی، شکار پور، جیکب آباد کے ماتمی جلوسوں کی سکیورٹی کا بھی جائزہ لیا۔ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم عاشور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہوا، جو اپنے قدیمی راستوں موچی گیٹ، موری گیٹ، مسجد وزیر خان اور پانی والا تالاب سے ہوتا ہوا رنگ محل پہنچا جہاں نماز ظہرین ادا کی گئی۔

جس کے بعد مرکزی جلوس بھاٹی گیٹ پہنچا اور شام کو کربلا گامے شاہ جا کر اختتام پذیر ہوا، جلوس میں نوحہ خوانی، ماتم داری اور زنجیر زنی کی گئی جبکہ اس دوران نذر و نیاز کا بھی سلسلہ جاری رہا۔ملک کے دیگر علاقوں کی طرح پشاور کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا ہ کے دیگر علاقوں میں بھی جلوس کی گزرگاہوں پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلی کے پی محمود خان نے دیگر وزرا کے ہمراہ محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم کا دورہ کیا ۔