سندھ حکومت کا وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر سندھ کے نوجوانوں کو نظر انداز کرنے پر احتجاج

سندھ حکومت نے وفاق سے نوکریون میں کوٹا سسٹم پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کردیا،وفاق سندھ کو اپنے حصے کی نوکریاں نہیں دے رہا، محمد اسماعیل راہو

بدھ ستمبر 18:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) سندھ حکومت کا وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر سندھ کے نوجوانوں کو نظر انداز کرنے پر احتجاج،سندھ حکومت نے وفاق سے نوکریوں میں کوٹا سسٹم پرعملدرآمد کرنے کا مطالبہ کردیا.سندھ کے صوبائی وزیرزراعت محمد اسماعیل راہو نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کا نوکریوں میں کوٹا سسٹم پر عملدرآمد نہ کرنے پر تشویش ہے، وفاق سندھ کو اپنے حصے کی نوکریاں نہیں دے رہا.انہوں نے کہا کہ وفاق نے نوکر یوں میں سندھ کو مسلسل نظر اندازکیا ہے،وفاق نے 2013.14 میں سندھ کو کوٹا تحت 26 ہزار نوکریاں کم دی,سال 2014.15 تک وفاقی خود مختار ادارے میں 8 لاکھ 26 ہزار 762 ملازم تھے،سندھ کا دیہی اور شہری کوٹا 93 ہزار 110 رکھا گیا مگر سندھ کو 67 ہزار نوکریاں مل سکیں,سال 2015.16 میں بھی سندھ کو 26 ہزار نوکریاں کم ملیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سال 2016 سے 17 میں سندھ کو1لاکھ 10 ہزا رنوکریاں ملنی تھیمگر سندھ کو 26 ہزار 387 نوکریاں ملیں, قومی اسمبلی میں پنجاب کو 495 اور سندھ کو 128نوکریاں دی گئی۔سال2016.17میں کے پی کے کا نوکریوں کاحصہ1 لاکھ 11 ھزار 159تھا,کے پی کے کو 87 ہزار زیادہ اضافی ملازمتیں دی گئیں۔اسماعیل راہو نے کہا کہ سال 2016.17 میں وفاق میں کام کرنے والے تمام ملازمین میں 6 فیصد کے حساب سے بلو چستان کی57 ہزار996 نوکریاں بنتی تھی,بلوچستان کے 40 ہزار 496 ملازمین مقررہیں,اس حساب سے بلوچستان کو17 ہزار5سو ملازمتیں کم دی گئی