چانڈکا میڈیکل اسپتال میں مختلف امراض کی تشخیص کے لیے ٹیسٹس بھی بند کردئیے گئے

بدھ ستمبر 18:47

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) بالائی سندھ کی سب سے بڑے چانڈکا میڈیکل اسپتال میں پچھلے چار ماہ سے فنڈز کی کمی کے باعث ادویات کا شدید بحران تو موجود تھا ہی لیکن اب مختلف امراض کی تشخیص کے لیے ٹیسٹس بھی بند کردئیے گئے ہیں جس سے شہر اور دور رزا علاقوں سے آئے مریض اور تیماردار کو تکالیف کا سامنا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے حلقہ انتخاب لاڑکانہ میں سرکاری اسپتالوں کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے، اسپتال ذرائع کے مطابق پچھلے چار ماہ سے فنڈز کی کمی کے باعث ادویات کا بحران تو پہلے ہی سے موجود تھا تاہم اب دو ہفتوں سے چانڈکا سول اسپتال، ٹیچنگ اسپتال، شیخ زید وومن اور شیخ زید چلڈرین اسپتال میں سے شعبہ حادثات اور سینٹرل لیباریٹرز میں قائم بلڈ بینک کٹس نہ ہونے کی وجہ سے بند کردی گئی ہیں جہاں اب بلڈ اسکریننگ نہیں کی جارہی، یہی نہیں بلکہ مذکورہ اسپتالوں کی لیباریٹرز میں ٹائی فائی ڈاٹ، ہیپاٹائٹس بی، سی، ایچ آئی وی، سیریم الیکٹولائیٹ، بخار کے لیے وائیڈل، ٹی بی کے لیے ایم ٹی، لپڈ پروفائیل، ہڈیون کے درد کے لیے اے این اے، معدی کے بیماری کے لیے ایچ پلوریہ، جسم میں زہر کی تشخیص کے لیے اے پی ٹی ٹی سمیت دیگر ٹیسٹس مکمل طور پر بند کیے گئے ہیں جہاں صرف شگر، بلڈ یوریا، کریٹی نائن، ایل ایف ٹی، یورین ڈی آر، سی پی ایس آر اور یورک ایسڈ کے ٹیسٹس موجود ہیں۔

(جاری ہے)

بڑی تعداد میں ٹیسٹس اور بلڈ اسکریننگ نہ ہونے کی وجہ سے مریض پرائیوٹ سیکٹر میں مہنگے داموں علاج کے حصول کے لیے پریشان دکھائی دیتے ہیں، اسپتال کے عملے کو اسٹیشنری کی کمی کا بھی سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ او پی ڈی سلپز تک بھی جاری نہیں کی جارہیں، دوسری جانب چانڈکا اسپتال کے شعبہ حادثات میں بھی بیڈس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارہ ایئرکنڈیشن میں سے جنرل وارڈ میں ایک بھی ایئرکنڈیشن چالو حالت میں موجود نہیں جبکہ اے ٹی ایس انجیکشن سمیت ڈرپ اور ڈٹول تک کی بھی سہولیات میسر نہیں، ٹیچنگ اسپتال کے علاوہ کسی بھی سرکاری اسپتال میں پوسٹ گریجوئیٹ ڈاکٹر کے موجود نہ ہونے کے باعث مریضوں کو لاحق بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج میں مشکلات درپیش ہیں، یہ ہی نہیں بلکہ مصدقہ ذرائع کے مطابق کواٹرلی بجٹ نا ملنے اور مختص پیسے رکھ کر واپس لینے کے باعث ادویات کی خریدادی نا ہونے سے آنے والے دنوں میں ادویات کی قلت میں مزید اضافہ ہو گا، شہریوں کے مطابق اسپتالوں میں مرض کی تشخیص کے لیے ٹیسٹس بھی بند ہیں تو علاج کس طرح فراہم کیا جاتا ہوگا، اس سے حکومتی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا پول کھل کر سامنا آچکا ہے، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم معاملے پر نوٹس لے کر ادویات اور ٹیسٹس کی سہولیات فراہم کی جائیں۔