پولیس حراست میں ہلاک ہونیوالے صلاح الدین کے ورثا کا پوسٹ مارٹم رپورٹ ماننے سے انکار

صلاح الدین کی قبر کشائی کروا کے صوبائی میڈیکل بورڈ سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کروانے کا حکم دیا جائے، والد کی عدالت سے استدعا

بدھ ستمبر 20:57

رحیم یار خان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے ورثا نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق صلاح الدین کے والد محمد افضال نے جوڈیشل مجسٹریٹ رحیم یار خان کی عدالت میں دی گئی درخواست میں حکومت، ایم ایس شیخ زاید ہسپتال اور پولیس کو فریق بنایا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں کہا گیا کہ انہیں بتائے بغیر صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا حالانکہ صلاح الدین کے بازو پر اس کا نام پتا اور فون نمبر لکھا ہوا تھا، پوسٹ مارٹم کی کاپی بھی انہیں فراہم نہیں کی گئی تھی۔پولیس حکام نے زبانی یقین دہانی کرائی تھی کہ صلاح الدین کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں ہیں، اپنے گاؤں گورالی لے جا کر لاش کو غسل دیتے وقت دیکھا تو صلاح الدین کے نازک اعضا اور جسم کے دوسرے حصوں پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے جن کی تصاویر بھی ان کے پاس موجود ہیں۔صلاح الدین کے والد نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صلاح الدین کی قبر کشائی کروا کے صوبائی میڈیکل بورڈ سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کروانے کا حکم دیا جائے۔

متعلقہ عنوان :