سینیٹرر طلحہ محمود کی زیر صدارت ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس

بدھ ستمبر 22:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 53وفاقی اداروں کو کی گئی تقریوں کے حوالے سے خطوط لکھے ،وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، قانون انصاف ، ریلوے ، سفیر ا ن، سینیٹ سیکرٹریٹ اور نیب سمیت 8وزارتوں نے معلومات فراہم نہیں کی، آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت 14086آسامیوں میں سے 9521تقریاں کر لی گئیں اور 4565تقریاںبھرتی کے مراحل میں ہیں۔

ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرر طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو کے 18ستمبر2018کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے معاملہ برائے وفاقی حکومت کی طرف سے نئی تقریوں میں صوبائی کوٹے پر عملدرآمد اور سینیٹر محمد اکرم کے 26ستمبر 2018کو سینیٹ اجلاس میں توجہ دلائو نوٹس کے حوالے سے صوبہ بلوچستان میں 17270خالی آسامیوں کے علاوہ انٹرنٹ ٹریفک کی مانیٹرنگ کیلئے اسرائیلی انٹیلی جنس معاہدے کے معاملے کا ان کیمرہ جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

سینیٹر سکندر میندرو نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت تمام صوبوں میں تقریوں کے حوالے سے ایک کوٹہ مختص کیا گیا ہے مگر اُس کوٹے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ۔صوبہ سندھ کی 29 ہزار اور بلوچستان کی 17 ہزار سے زائد پوسٹیں خالی پڑی ہیں ۔اتنی بڑی تعداد میں صوبائی پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔نئی تقریوں کیلئے ایسا فارمولہ بنایا جائے جس میں اگر صوبائی کوٹے کے مطابق تقریاں نہیں کی گئی ہیں انہیں پہلے مکمل کیا جائے۔

ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 53وفاقی اداروں کو کی گئی تقریوں کے حوالے سے خطوط لکھیں تھے 8اداروں جن میں ہائوسنگ اینڈ ورکس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، قانون انصاف ، ریلوے ، سفیر ا ن، سینیٹ سیکرٹریٹ اور نیب نے معلومات فراہم نہیں کی جبکہ 7اداروں نے جزوی معلومات فرا ہم کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ نے معلومات کیلئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھنے کا کہاتھا۔

اداروں سے ڈیٹا ملنے پر قائمہ کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا ۔ کس صوبے میں کوٹے کے مطابق تقریاں نہیں کی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے معلومات فراہم نہ کرنے والے تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے طلب کر لیا ۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ سرکاری اداروں میں تقریوں کے لئے این ٹی ایس یا دیگرٹیسٹنگ ایجنسیوں سے امتحان منعقدکرائے جاتے ہیں جن کو پاس کرنا انتہائی مشکل ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے تمام ٹیسٹنگ کی تفصیلات ، امتحان کا طریقہ کار آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ جن اداروں نے معلومات فراہم کر دی ہیں۔ اُن سے کوٹے پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجوہات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ورکنگ پیپر فراہم کئے گئے ہیں اسکے مطابق ایک لاکھ تین ہزار 589 پوسٹیں مختلف اداروں میں خالی پڑی ہیںاور مزید 15 محکموںکی تفصیلات آنے سے ان کی تعداد بڑھ جائے گی ۔

سینیٹر محمد اکرم خان کے معاملے کے حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ معزز سینیٹر کے معاملہ کا کمیٹی نے پہلے بھی جائزہ لیا تھا 17ہزار خالی اسامیوں کی خبر درست نہیں تھی، متعلقہ اخبارنے اس کی تردید بھی جاری کر دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت 14086آسامیوں میں سے 9521تقریاں کر لی گئی اور 4565تقریاںبھرتی کے مراحل میں ہیں۔

جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بے شمار اداروں میں غیر ضروری تقریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جہا ں ایک فرد کی ضرورت ہے وہاں پانچ پانچ افراد بھرتی کیئے گئے ہیں ۔اداروں کے بجٹ کا 80فیصد تنخواہوں میں صرف ہو جاتا ہے ۔ ڈویلپمنٹ کے لئے بجٹ بچتا نہیں ہے جو حکومت پر اضافی بوجھ بنتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوم ورک کرے کہ کس اداروے کو کتنے سٹاف کی ضرورت ہے ۔

پرائیویٹ اداروں میں قابلیت کے مطابق تنخواہ دی جاتی ہے ۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر ، ڈپٹی کمشنر و دیگر کے دفاتر میں اضافی سٹاف کی بھرمار ہوتی ہیں۔ بیس بیس مالی ایک دفتر میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اجلاس میں سینیٹرز سیمی ایزدی ، مشاہد اللہ خان ، نجمہ حمید ، ڈاکٹر اشوک کمار، روبینہ خالد ، انور لال دین، ثمینہ سعید اور ڈاکٹر سکندر میندرو کے علاوہ سپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ڈاکٹر صفدر سہیل ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ، چیئرمین پی ٹی اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔