قاری محمد یٰسین دینی تہذیب اور روایات کے امین تھے، مفتی کفایت الله

بدھ ستمبر 22:55

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) جمعیت علماء اسلام ضلع مانسہرہ کے امیر سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی کفایت الله نے کہا ہے کہ دینی تشخص کے خلاف ہونے سازشوں کے اس دور میں قاری محمد یٰسین کی وفات دینی حلقوں کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے، وہ درس و تدریس کے ساتھ اعلائے کلمة الحق کا بھی بھرپور حصہ رہے۔ وہ ترپی تناول ضلع مانسہرہ میں قاری محمد یٰسین کی یاد میں منعقدہ تعزیتی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

کانفرنس کی صدارت عالمی ایوارڈ یافتہ قاری عبدالجبار نے کی جبکہ کانفرنس سے قاضی محمد اسرائیل گڑنگی، مولانا ڈاکٹر سعید عبدالله، قاری عبدالرزاق، قاری محمد سلیمان، قاری شمس الدین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مفتی کفایت الله نے کہا کہ قرآن کریم سے وابستگی ہی بلندی کا معیار ہے، مادیت کے تندو تیز دھارے میں میں قرآنی تعلیمات کو فروغ دینے والے معاشرے اور الله کے ہاں اعلیٰ مقام پاتے ہیں، قاری محمد یٰسین دینی تہذیب اور روایات کے امین تھے جو ان کے ذات کا افتخار اور ان کے کردار کے عظمت کی دلیل تھی۔

(جاری ہے)

مفتی کفایت الله نے کہا وہ جفاکش، محنتی اور بھرپور جذبہ رکھنے والے مشنری اور نظریاتی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنے سینکڑوں شاگردوں کی ایک باصلاحیت کھیپ تیار کی جو ان کیلئے صدقہ جاریہ ہے، پاکستان کی بقاء و سالمیت دفاعی قوت کے ساتھ قومی وحدت، نظریاتی پختگی اور فکری یکجہتی پر بھی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کی آزادی اور تحفظ کے خاطر انہیں اپنے شاندار اور تابندہ ماضی سے جوڑے رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ قاری محمد یٰسین اصول و نظریات کی ایک آہنی چٹان اور مصائب میں تحمل و برداشت کے کوہ گراں تھے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت، عقیدہ ختم نبوت کے دفاع کیلئے تمام جماعتوں اور طبقات کو متحدہ قوت کے ساتھ میدان عمل میں اگر دینی تشخص کے بقاء اور تحفظ کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ دینی شناخت اور جغرافیائی سرحدات پر نقب لگانے والوں کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکیں۔