ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت نے نمایاں خدمات پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا شکریہ ادا کیا

بدھ ستمبر 22:55

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروز ادہانوم غیبریسوس نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا غیر منتقل بیماریوں پر بنائے گئے اعلی سطحی گلوبل کمیشن میں رہنمائی کرنے اور اس حوالے سے ان کی نمایاں خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ اعلان 9 ستمبر 2019 کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جینوا میں منعقدہ کمیشن کے حتمی اجلاس میں کیا گیا۔

اس کمیشن کی صدارت میں یوروگوئے، فن لینڈ اور سری لنکا کے صدور، روسی وزیر ویرونیکا سکورتسوا اور وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے حصہ لیا۔ اس کیمشن کا آغاز اکتوبر 2017میں ہوا۔ اس کمیشن کا مقصد دنیا میں وفات کی بڑی وجوہات پر ایک جدید طریقہ سے قابو پاتے ہوئے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ہمیں رہنمائوں کو متحد کرنے اور جان لیوا بیماریوں سے افراد کو بچانے کیلئے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

NCDsطبی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ یہ بیماریاں غریب افراد کے اخراجات میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں اور بہت سے افراد اس حوالے سے اپنی صحت کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ترقی ممکن ہے اور اگر ہم اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے تو ایک تباہ کن صحت کا نظام ہماری نسلوں کا منتظر ہے۔ مجموعی طور پر NCD(بالخصوص کینسر، ذیابطیس، پھیپڑے اور دل کی بیماریوں) سے سالانہ 41ملین افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

کم اور متوسط آمدن والے ممالک خاص طور پر NCDsسے متاثر ہوتے ہیں۔ کمیشن کی پہلی رپوٹ کا اجراء یکم جون 2018میں ہوا جس میں دنیا کے تمام رہنمائوں سے اعلی سطح پر سیاسی عزم کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ان مہلک بیماریوں کے نتائج میں ہونے والی اموات پر قابو پایا جاسکے اور انسانیت کی بھلائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ کمیشن کی دوسری اور آخری رپورٹ کا اجراء 11دسمبر 2019کوعالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام اعلی سطحی اجلاس میں عمان کے شہر مسقط میں کیا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہ ادارہ 70سال قبل وجود میں آیاجس کے مشن کے مطابق صحت ایک انسانی حق ہے جو ہر کسی کیلئے ہے اور چند افراد کیلئے مخصوص نہیں ہے۔ انہوں نے آخر میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کمیشن کیلئے انکی رہنمائی اور نمایاں خدمات پر شکریہ ادا کیا۔