پلی بارگین کی درخواست واپس لینے پر جعلی اکاؤنٹ کیس کے ملزم کو واپس جیل منتقل کر دیا گیا

پلی بارگین کی رقم زائد ہونے کی وجہ سے اسے ادا نہیں کرسکتا: ملزم خورشید انور جمالی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ ستمبر 22:42

پلی بارگین کی درخواست واپس لینے پر جعلی اکاؤنٹ کیس کے ملزم کو واپس جیل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 ستمبر2019ء) پلی بارگین کی درخواست واپس لینے پر جعلی اکاؤنٹ کیس کے ملزم کو واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ لزم خورشید انور جمالی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ پلی بارگین کی رقم زائد ہونے کی وجہ سے اسے ادا نہیں کرسکتے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی جہاں نیب نے عدالتی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم خورشید انور جمالی کو پیش کیا۔

مالی بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر مئی میں گرفتار کیے گئے ملزم خورشید انور جمالی نے عدالت میں موقف اپنایا کہ وہ پلی بارگین کی رقم زائد ہونے کی وجہ سے اسے ادا نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ ملزم کا کیس جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس سے تعلق رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، سمٹ بینک کے سابق چیئرمین حسین لوائی اور دیگر بڑے نام بھی نامزد ہیں۔

نیب پراسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم خورشید انور جمالی 5 کروڑ 70 لاکھ روپے جمع کروانے پر راضی تھے لیکن پلی بارگین کی رقم 10 کروڑ روپے سے زائد تھی جس کے بعد عدالت نے ملزم کو 20 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹ کیس سے متعلق نامزد ایک اور ملزم سندھ بینک کے ایگزیکٹو نائب صدر ندیم الطاف نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا اور انہوں نے ملزمان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست دائر کردی۔

اپنے بیان میں ملزم ندیم الطاف نے کہا کہ دباؤ ڈال کر قرض منظور کروائے گئے تھے۔ ندیم الطاف نے مزید بتایا کہ 2016 میں ایک اور ملزم بلال شیخ کے ہمراہ وہ حسین لوائی سے ملے جس میں سمٹ بینک اور اس کے سابق چیئرمین کو فائدہ پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ شریک ملزم کے مطابق سندھ بینک کی جانب سے حسین لوائی کی فرنٹ کمپنی کو غیر قانونی طور پر قرض فراہم کیے گئے اور بعد میں یہ رقم نجی بینک میں جمع کروائی گئی۔