حکومت پبلک ،پرائیویٹ شعبوں میں فرائض سر انجام دینے والی خواتین کے تحفظ کیلئے ان کے ساتھ کھڑی ہے ‘ مسرت چیمہ

بدھ ستمبر 23:45

لاہور۔11 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت پبلک اورپرائیویٹ شعبوں میں فرائض سر انجام دینے والی خواتین کے تحفظ کیلئے ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی صورت بھی عدم تحفظ کا شکارنہیںہونے دے گی ،کسی ایک شخص کے ذاتی فعل کو ساری کمیونٹی کے سر نہیں تھونپا جا سکتا ،ڈیوٹی پر موجود خاتون اہلکار پر ہاتھ اٹھا نا کوئی بہادر ی نہیں اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ، وکلاء برادری کو بھی اس کی مذمت کرنی چاہیے ۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے پارٹی کی رکن اسمبلی عظمیٰ کاردار کے ہمراہ فیروز والا میں وکیل کے تشدد کا شکار ہونے والی لیڈی کانسٹیبل فائزہ نوازکے ہمراہ ڈائریکٹو ریٹ جنرل پبلک ریلیشنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر فائزہ نے کہا کہ میں سیاست نہیں کررہی بلکہ سوشل میڈیا پر میری کردار کشی کی جارہی ہے جسے کوئی لڑکی برداشت نہیں کر سکتی ۔

حکومت اور محکمہ پولیس کی جانب سے بھرپو رسپورٹ دینے پر مشکور ہوں ۔ مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ جو خواتین گھروں سے باہر سرکاری محکموںیا پرائیویٹ سیکٹر میں میں فرائض سر انجام دیتی ہیں انہیں تحفظ کا احساس دلانا ہماری ذمہ داری ہے اور حکومت اس سے ہرگز غافل نہیں ۔ وزیراعظم عمران خان ، وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار او رپوری حکومت فائزہ اور اس جیسی دیگر خواتین کے ساتھ کھڑی ہے ۔

پریس کانفرنس کا یہی مقصد ہے کہ کوئی بھی خاتون جو کسی بھی شعبے میں فرائض سرانجام دے رہی ہے وہ عدم تحفظ کا شکارنہ ہو ۔ انہوں نے کہاکہ کسی ایک شخص کے ذاتی فعل کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا ،پولیس ،بیورو کریسی ، ڈاکٹرزاو روکلاء حتیٰ کہ جہاں بھی اس طرح کا واقعہ پیش آئے تو اس کمیونٹی کو خود آگے بڑھ کر اس طرح کے واقعات کی مذمت کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس کا تدارک ہو سکے ۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کی کمیونٹی میں وکلاء کی اکثریت بہت اچھی ہے او ر ایسے وکیل بھی موجودہیں جو اس طرح کے کیسز مفت لڑتے ہیں ، جس نوجوان وکیل نے خاتون اہلکار پر ہاتھ اٹھایا ہے اسے بہادر ی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک کمزور انسان کا اقدام اتھا جس کی مذمت کی گئی ہے ۔ حکومت اور پولیس کا محکمہ فائزہ کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم اس کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔