کسی انتہا پسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،

پاکستان میں کسی جنگی سردار یا دہشت گرد کی جگہ نہیں ہے، جیش محمد اور جماعت الدعوہ کے تمام مدارس کو حکومتی تحویل میں لیا گیا ہے، وزیراعظم نے تنقید کے باوجود منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، آصف زرداری کے خلاف کیس جاندار نہ ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے، ایک طرف مودی نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے، دوسری جانب مولانا صاحب دھرنا دینا چاہتے ہیں، فضل الرحمن کے کہنے پر عوام باہر نہیں آئے گی، ہر شعبے کی طرح پولیس کے نظام کو بھی بہتر بنا رہے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ

بدھ ستمبر 23:53

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ کسی انتہا پسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان میں کسی جنگی سردار یا دہشت گرد کی جگہ نہیں ہے، جیش محمد اور جماعت الدعوہ کے تمام مدارس کو حکومتی تحویل میں لیا گیا ہے، وزیراعظم نے تنقید کے باوجود منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، آصف زرداری کے خلاف کیس جاندار نہ ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے، ایک طرف مودی نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے، دوسری جانب مولانا صاحب دھرنا دینا چاہتے ہیں، فضل الرحمن کے کہنے پر عوام باہر نہیں آئے گی، ہر شعبے کی طرح پولیس کے نظام کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔

بدھ کو اپنے انٹرویو میں وزیر داخلہ نے کہا کہ نائن الیون سانحہ کے بعد دنیا یکسر بدل گئی، نائن الیون کے بعد عالمی برادری کا ساتھ دینے کیلئے سارے ادارے آن بورڈ تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے ملک کو اس تباہی کے دھانے پر پہنچایا ہے، ملک کی خستہ حالی کا ذمہ دارایک فرد کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام جہادی گروپوں کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا ، پاکستان میں کسی جنگی سردار یا دہشت گرد کی جگہ نہیں، کسی انتہا پسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، جیش محمد اور جماعت الدعوہ کے تمام مدارس کو حکومتی تحویل میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف حکومت نے بڑا کام کیا، عمران خان نے تنقید کے باوجود منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، آصف زرداری کے خلاف کیس جاندار نہ ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے، آصف زرداری کے خلاف کیس تگڑا ہے، وائٹ کالر کرائم ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج ویڈیو کیس میں شریفوں پر فرد جرم عائد ہونی چاہیئے تھی، جج کے خلاف ویڈیو شریف برادران نے بنوائی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کررہی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ کمزور دل کی وجہ سے پی ٹی آئی میں آگئے، پی ٹی آئی کو کسی دوسری پارٹی سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 70 سال کا کوڑا کرکٹ صاف کررہی ہے، ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، ہر شعبے کی طرح پولیس کے نظام کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملکی مسائل ٹھیک ہوجائیں گے، اگر سب مل کر ملک کیلئے کام نہیں کریں گے تو پچھتائیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی وزراء جوابدہ ہوتے ہیں، وزیراعظم اجلاس میں ایک گھنٹہ وزرا سے سوالات کرتے ہیں، وزیراعظم وزرا سے پوچھتے ہیں عام آدمی کیلئے کیا کیا انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان عالم دین ہیں انکی عزت کرتا ہوں، ایک طرف مودی نے ہماری شہ رگ کو پکڑا ہے، دوسری جانب مولانا صاحب دھرنا دینا چاہتے ہیں، مولانا فضل الرحمان سے ڈیل نہیں ہوگی وہ خود ڈھیل ہوجائیں گے، لوگ فضل الرحمان کے پیچھے نہیں نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کارکردگی کی بناء پر اگلی بار پھر تحریک انصاف کی حکومت آئے گی، موجودہ حکومت اگلے چار سال میں ملک کی حالت کو مزید بہتر بنائے گی۔