کچھ سیاسی شخصیات نیب کیس ختم کروانے کے لیے ذاتی طور پر وزیراعظم کے پاس گئیں

معروف صحافی نے اہم انکشاف کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات ستمبر 10:32

کچھ سیاسی شخصیات نیب کیس ختم کروانے کے لیے ذاتی طور پر وزیراعظم کے پاس ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12ستمبر 2019) سینئیر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ چند سیاسی شخصیات ذاتی طور پر وزیراعظم عمران خان کے پاس گئیں اور درخواست کی کہ ہمارے خلاف نیب کیس ختم کروائیں۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزیدکہاکہ نیب پر سیاسی انجیرنگ کا تاثر ملک اور سپریم کورٹ کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر ایسی سیاسی شخصیات کو جانتا ہوں جو احتساب سے بچنے کے لیے عمران خان کے پاس گئیں اور اپنے خلاف ریفرنسز اور مقدمات ختم کروانے کی درخواست کی۔

میرے خیال سے وزیراعظم نے ان کو کوئی خاص جواب نہیں دیا ہو گا۔انہوں نے درخواست کی کہ آپ چئیرمین نیب سے بات کریں اور ہمارے خلاف مقدمات ختم کروائیں۔جب چئیرمین نیب نے کہا کہ میں تو بلا امتیاز احتساب کروں گا تو پھر ان کے خلاف ویڈیو آ گئی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کہا چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے سیاسی احتساب سے متعلق بیان کے بعد ملک میں اب بلاامیتاز احتساب ہو گا۔

خیال رہے گذشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ معاشرے کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیوزم میں دلچسپی نہ لینے پرخوش نہیں، معاشرے کا وہی طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیوزم پر تنقید کرتا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ ازخودنوٹس پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے. چیف جسٹس پاکستان نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جوڈیشل ایکٹیوزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشلزم کو بڑھا رہی ہے.انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینئرنگ ہے، اس تاثر کے ازالے کے اقدامات کر رہے ہیں‘چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا. انہوں نے کہا کہ میں اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پراستعمال کیا جائے گا، جوکسی کے مطالبے پرلیا گیا وہ سوموٹو نوٹس نہیں ہوتا،جب ضروری ہوا یہ عدالت سو موٹو نوٹس لے گی.