الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار،

الیکشن کمیشن نے دو نئے ممبران کی تقرری غیر آئینی قرار دیدی

جمعرات ستمبر 14:02

الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار،الیکشن کمیشن نے دو نئے ممبران کی تقرری غیر آئینی قرار دے دی۔ جمعرات کو الیکشن کمیشن نے جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کراتے ہوئے کہاکہ ممبران کی تقرری آئین کے آرٹیکل 213 کی خلاف ورزی ہے ۔الیکشن کمیشن نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر نے ممبران کا حلف لینے سے انکار کیا ،23 اگست کو سیکریٹری پارلیمانی امور کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کے مطابق صدر نے ممبران کی تقرری کرتے ہوئے 213 اے اور بی کی خلاف ورزی کی ۔الیکشن کمیشن کے مطابق آرٹیکل 214 میں ممبران کے حلف کا طریقہ کار موجود ہے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق حلف وہ لے سکتا ہے جو بطور ممبر تعینات تصور کیا جائے ، صدر کی جانب سے دو ممبران کا تقرر تعیناتی کے تحت نہیں آتا۔سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا۔الیکشن کمیشن کے جواب کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے بھی دئیے گئے۔