ڈپٹی کلکٹر ڈرائی پورٹ لاہور کی نوکری سے برطرفی کیس ، ایف بی آر قواعد وضوابط کے مطابق دو ماہ میں دوبارہ فیصلہ کرے، سپریم کورٹ

جمعرات ستمبر 15:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے ڈپٹی کلکٹر ڈرائی پورٹ لاہور کی نوکری سے برطرفی سے متعلق کیس میں حکم دیاہے کہ ایف بی آر قواعد وضوابط کے مطابق دو ماہ میں دوبارہ فیصلہ کرے ۔سپریم کورٹ میں ڈپٹی کلکٹر ڈرائی پورٹ لاہور کی نوکری سے برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان ڈپٹی کلکٹر نے کہاکہ ڈپٹی کلکٹر کو 2011 میں چیرمین ایف بی آر نے نوکری سے برطرف کیا، 2011 میں ہی وفاقی سروس ٹریبیونل نے نوکری پر بحال کردیا۔

وکیل ڈپٹی کلکٹر نے کہاکہ انکوائری کمیٹی نے سفارش کی کہ کم سزا دی جائے، محکمے کی مجاز اتھارٹی نے اظہار وجوہ کا نوٹس کیے بغیر ہی نوکری سے برطرف کردیا۔وکیل ڈپٹی کلکٹر نے کہاکہ نوکری سے برطرفی کے قوائد و ضوابط موجود ہیں جنہیں نظر انداز کیا گیا۔

(جاری ہے)

جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ایک بات واضح ہے جو وفاقی سروس ٹربیونل نے بھی کہا، ڈپٹی کلکٹر نے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا، کرپشن نہیں کی لیکن غفلت کے باعث یہ نقصان ہوا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ 46 لاکھ 80 ہزار بہت بڑی رقم ہے جس کا نقصان قومی خزانے کو ہوا، حکومت کے محکموں میں یہ بڑی خرابی ہے کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔جسٹس منیب اختر نے وکیل ایف بی آر سے استفسار کیا کہ کیا محکمہ انکوائری کمیٹی کی سفارش کو مکمل نظر انداز کرسکتا ہے۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ اگر انکوائری کمیٹی اپنے ساتھی کو بچائے تو محکمے کی مجاز اتھارٹی کارروائی کرسکتی ہے۔ عدالت نے کہاکہ ہم معاملہ دوبارہ محکمے کو بھجوا رہے ہیں، ایف بی آر قوائد و ضوابط کے مطابق دو ماہ میں دوبارہ فیصلہ کرے۔ عدالت نے کہاکہ دو ماہ بعد اس معاملے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے۔