Live Updates

بھارتی حکومت کا لداخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے درمیان سرکاری املاک کی تقسیم کے لئے تین رکنی کمیٹی کا اعلان

جمعرات ستمبر 15:40

بھارتی حکومت کا لداخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے درمیان سرکاری املاک ..
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 ستمبر2019ء) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے براہ راست کنٹرول میں لینے اور مقبوضہ خطہ کو دو حصوں میں منقسم کرنے کے بعد لداخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے درمیان سرکاری املاک کی تقسیم کا عمل شروع کردیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے لداخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے درمیان ملکیت کی تقسیم کے لئے تین رکنی مشاورتی کمیٹی کا اعلان کیا ہے۔

31 اکتوبر2109ء کو لداخ اور مقبوضہ جموں وکشمیر پر مشتمل دو الگ الگ اکائیاں بھارت کے براہ راست انتظامی کنٹرول میں آجائیں گی۔ نوٹیفیکشن میں بتایا گیا کہ سابق بھارتی سکرٹری دفاع سنجے مشرا، سابق آئی اے ایس افسر ارون گویل اور انڈین سیٹیزن آڈٹ سروس کے سابق افسر گری راج پرساد کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئین کی دفعہ 370 کے تحت خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو اکائیوں میں تقسیم کرکے انہیں بھارت کے براہ راست کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ دونوں اکائیاں لداخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر ہونگی۔ اس طرح بھارت نے باقاعدہ طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو حصوں میں منقسم کردیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق تقسیم میں وسیع انتظامی اور اقتصادی معاملات طے کردیئے جائیں گے، ملکیت کی تقسیم میں آبادی کے تناسب سے ریاستی محکموں، اسلحہ، پولیس کے دستوںکے لئے گولہ بارود،گاڑیوں اور بنیادی ڈھانچے و دوسرے وسائل کی تقابلی تقسیم شامل ہے۔
پاکستان کی شہہ رگ، کشمیر سے متعلق تازہ ترین معلومات