ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہوتے ہی کرکٹرز بیروزگار ہونے لگے

شان مسعود،میر حمزہ اور رومان رئیس نیشنل بینک سے فارغ ہورہے ہیں،سلسلہ مزید تیز ہونے پرپلیئرز کو روزگارکے حصول میں مشکل پیش آئےگی

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعرات ستمبر 15:59

ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہوتے ہی کرکٹرز بیروزگار ہونے لگے
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11ستمبر2019ء) پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ نظام میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے خاتمے کے ساتھ ہی کھلاڑیوں کو ملازمت سے فارغ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈپارٹمنٹس کے ساتھ منسلک بہت سارے کرکٹرز ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے۔ کنٹریکٹ والے ملازمین کو نئے معاہدے نہیں ملیں گے جبکہ مستقل ملازمین کو کام کرنا پڑےگا۔

پہلے مرحلے میں نیشنل بینک نے دس کھلاڑیوں کو ملازمت سے فارغ کیا جارہا ہے جن میں شان مسعود،میر حمزہ اور رومان رئیس نمایاں ہیں۔گذشتہ سال فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز کوبینک انتظامیہ نے معاہدوں کی تجدید نہیں کی ہے،شان مسعود پی سی بی کے کنٹریکٹ میں سی کٹیگری میں ہیں،میر حمزہ ٹیسٹ کر کٹر اور رومان رئیس انٹر نیشنل کرکٹر ہیں دونوں کو پی سی بی نے صوبائی ٹیموں کے ساتھ کنٹریکٹ دیئے ہیں۔

(جاری ہے)

کے الیکٹرک نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کو ملازمت سے سبکدوش کیا ہے۔نیشنل بینک نے گذشتہ سال قائد اعظم ٹرافی اور کے الیکٹرک نے گریڈ ٹو میں شرکت کی تھی۔گذشتہ دو سال میں یوبی ایل اور حبیب بینک نے اپنی ٹیموں کو مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ ڈیپارٹمنٹس کے بعض کھلاڑیوں کوپی سی بی نے صوبائی ٹیموں کے کنٹریکٹ دیئے ہیں۔ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سیٹ اپ میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کا کردار مکمل ختم ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم ہاﺅس نے ڈپارٹمنٹ کو لکھا ہے کہ وہ صوبائی ٹیموں کو سپورٹ کریں۔نئے نظام کے بعد ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کے معاہدوں کی تجدید نہیں کررہی۔جو کھلاڑی مستقل ملازم ہیں انہیں یا تو کام کرنا پڑےگا یا گھر جانا ہوگا۔ڈپارٹمنٹس کی ٹیموں سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے ہر ڈپارٹمنٹ ماضی میں جتنا پیسہ اپنی ٹیموں کو چلانے پر لگاتے تھے مستقبل میں انہیں یہ رقم صوبائی ایسوسی ایشن کو سپورٹ کرنے پر خرچ کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم ہاﺅس نے جن ڈپارٹمنٹس کو خطوط لکھے ہیں ان میں سوئی سدرن، سوئی ناردرن،واپڈا،پی آئی اے، ریلویز ، نیشنل بینک،سٹیٹ بینک نمایاں ہیں۔ایک ادارے کے سپورٹس سربراہ کا کہنا ہے جب ٹیمیں میچ ہی نہیں کھیلیں گی تو کھلاڑیوں کو ملازمت دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ابھی چند ڈپارٹمنٹ نے کھلاڑیوں کو فارغ کیا ہے یہ سلسلہ مزید تیز ہوجائےگاجسکے بعد کھلاڑیوں کو روزگارکے حصول میں مشکل پیش آئےگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سٹرکچر تبدیل کر کے 16 ریجنز کو 6 ایسوسی ایشنز میں ضم کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت قائداعظم ٹرافی کا پہلا مرحلہ 14 ستمبر سے 8 اکتوبر اوردوسرا مرحلہ 28 اکتوبر سے 13 دسمبر تک جاری رہےگا۔ قومی انڈر 19 ٹورنامنٹ یکم اکتوبر سے 12 نومبر تک جاری رہےگا۔پی سی بی کے نئے آئین میں سولہ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ختم کر کے 6 ایسوسی ایشنز کو رکھا گیا ہے اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جگہ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشنز نے لے لی ہے۔

پی سی بی ڈومیسٹک سیزن 2019-20 پر ایک ارب روپے سے زائد خرچ کرےگا اور پورے سیزن میں ایک کھلاڑی کو سالانہ 20 لاکھ روپے کی آمدن ہو گی جبکہ ڈومیسٹک سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرےگا۔پاکستانی کرکٹ بورڈ نے قائداعظم ٹرافی کی انعامی رقم میں 233 فیصد، پاکستان کپ کی انعافی رقم میں 150 فیصد اور ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹس کی انعامی رقم میں 100 فیصد اضافہ کیا ہے۔