بھارت میں لڑکیوں کی کمی کے باعث ایک لڑکی کو کئی مردوں سے شادی کرنے پر مجبور کیا جانے لگا

نو بیاہتا دلہنوں پر شادی کے کچھ عرصہ کے بعد ایک سے زائد مردوں کی بیوی بننے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات ستمبر 16:38

بھارت میں لڑکیوں کی کمی کے باعث ایک لڑکی کو کئی مردوں سے شادی کرنے پر ..
بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 ستمبر 2019ء) : بھارت ریاست اُترپردیش کے شہر باغپت میں ''دلہنوں'' کی کمی کی وجہ سے لڑکیوں کو ایک سے زائد مردوں کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور کیا جانے لگا۔ اس حوالے سے غیر ملکی اخبار ٹیلی گراف میں شائع رپورٹ میں ایک 17 سالہ لڑکی ماجدہ کی کہانی بیان کی گئی جس کی شادی بھارتی ریاست کے رہائشی ایک ڈرائیور سے ہوئی ، شادی کے ایک ماہ بعد ہی ماجدہ کو اپنے شوہر کے دو بھائیوں کی بھی بیوی بننے پر مجبور کیا جانے لگا جس سے صاف انکار کر نے پر ماجدہ پر نہ صرف تشدد کیا گیا بلکہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ماجدہ نے بتایا کہ اُنہوں نے آپس میں دن طے کر رکھے تھے اور باریاں لگائی ہوئی تھیں۔ یہ تمام ٹرینڈ والدین کی جانب سے بچے کی جنس کا علم ہوتے ہی بیٹی ہونے پر اسقاط حمل کے نتیجے میں سامنے آیا جب علاقہ میں لڑکیوں کی تعداد کم رہ گئی جبکہ لڑکے زیادہ ہو گئے۔

(جاری ہے)

اور باغ پت نامی اس علاقہ کو بھارت میں جنسی عدم توازن کی وجہ سے کافی شہرت حاصل ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن دویندرا دھامہ کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقہ میں اگر آپ کسی مڈل کلاس یا لوئر کلاس لوگوں کے گھر جائیں تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ ان کے گھروں میں کوئی لڑکی نہیں ہو گی۔

یہاں پر دلہنیں بھی غریب گھرانوں سے لائی جاتی ہیں۔ قانوناً اُنہیں ایک لڑکے کے لیے بیاہ کر لایا جاتا ہے لیکن اُسے بعد میں ایک سے زائد مردوں کی بیوی بن کر رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایک لڑکی کو ایک ہی خاندان میں اپنے شوہر کے بھائیوں یا کزنز کی بیوی بن کر رہنے پر مجبور بھی کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں بچوں کے حقوق کی تنظیمیں اُن افراد کے خلاف کام کر رہی ہیں جو بچے کی جنس کا پہلے تو پتہ لگواتے ہیں اور اگر بیٹی ہو تو اسقاط حمل کروا دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے معاشرے میں جنس کے اعتبار سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے جو مستقبل میں مسائل پیدا کرتا ہے۔