کراچی کو سندھ سے الگ یونٹ بنانے کی تیاری

سندھ کی تقسیم خطرناک ہے، پہلی مرتبہ کسی وفاق حکومت نے آرٹیکل 149کی بات کی، یہ وہ حملہ ہے جو کراچی کوسندھ سے الگ کردے گا،پی ٹی آئی تقسیم کے علاوہ کیا چاہتی ہے،ن لیگ آرٹیکل 149کے نفاذ کی مخالفت کرے گی۔ن لیگی رہنماء محمد زبیر کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات ستمبر 16:50

کراچی کو سندھ سے الگ یونٹ بنانے کی تیاری
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 ستمبر2019ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اورسابق گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی بات سب سے خطرناک ہے، پہلی مرتبہ کسی وفاق حکومت نے آرٹیکل 149کی بات کی،یہ وہ حملہ ہے جو کراچی کوسندھ سے الگ کردے گا،پی ٹی آئی تقسیم کے علاوہ کیا چاہتی ہے،ن لیگ سندھ میں آرٹیکل 149کے نفاذ کی مخالفت کرے گی۔

انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کچرے کی سیاست ہور ہی ہے، ایک علاقے سے کچرا اٹھا کر دوسرے علاقے میں ڈمپ کیا جارہا ہے۔محمد زبیر نے کہاکہ اگر آرٹیکل 149لگا دیا گیا تووفاق کا ڈھانچہ کمزور ہوجائے گا۔پہلی مرتبہ کسی وفاقی حکومت نے آرٹیکل 149لگانے کی بات کی ہے۔مسلم لیگ ن سندھ میں آرٹیکل 149کے نفاذ کی مخالفت کرے گی۔

(جاری ہے)

کیا مسلم لیگ ن کی حکومت نے کراچی میں امن قائم کرنے کیلئے 149کا سہارا لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کو یہ بات یاد دلانا ہوگی کہ جب وہ کہتے تھے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا؟اب کہاں ہے ایم کیوایم؟کراچی سے پی ٹی آئی کے منتخب ایم این ایز کہاں ہیں؟ اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نےبھی کہا کہ پہلے بنگلا دیش بنا اب سندھو دیس اور سرائیکی دیس بھی بن سکتا ہے، عمران خان کی حکومت کو گھر جانا چاہیے، عمران خان کی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے، ہم خون دیں گے، سر دیں گے لیکن پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے آج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ظلم ایک حد تک برداشت ہوتا ہے۔ وفاق کی ذمے داری ہے کہ تمام صوبوں کو جوڑ کر ملک چلائے۔ ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں ہے۔ اس حکومت کو گھر جانا چاہیے۔ جمہوریت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، عمران خان نے ہر سیاسی جماعت کی قیادت کو قیدی بنا رکھا ہے۔ ہم آخر دم تک پاکستان کو بچانے کی کوشش کریں گے۔

ہم اپنا خون دیں گے، سر دیں گے لیکن پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابی مہم میں ہی جانتے تھے جی ڈی اے، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اتحاد کا کیا خواب تھا۔ اب انہوں نے اپنی نیت واضح کردی ہے۔ ہاتھ دکھا دیا اور عمل اٹھا دیا۔ ان کی نیت کراچی پر غیر آئینی طریقے سے قبضہ کرنا ہے۔ ان کا خواب تھا کہ کراچی کے لیے ایک انتظامی یونٹ بنایا جائے۔