آرٹیکل 149/4 ایک نیا سیاسی ڈرامہ ہے، کراچی کو چارٹر سٹی کا درجہ دیا جائے، الطاف شکور

جمعرات ستمبر 21:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر فروغ نسیم کی سربراہی میں چھوڑا گیا شوشہ آرٹیکل 149/4 ایک نیا سیاسی ڈرامہ ہے۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور متحدہ کی ناکامی کے بعد کراچی کے حالات سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے لیکن مخلص وہ بھی نہیں ہے،بلدیاتی انتخابات سے پہلے پوائنٹ اسکورنگ کا گیم بند کیا جائے،بڑے شہروں کو چارٹر سٹی کا درجہ دیا جا ئے ا ور ابتداء کراچی سے کی جائے۔

کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے، نورا کشتی بند کی جائے ورنہ کراچی مزید پیچھے جائے گا اور نفرتوں میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ کیا فروغ نسیم کمیٹی اور وزیر اعظم کا دورئہ کراچی بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کے لئے کسی بہانے کی تلاش ہی کراچی کی تباہی میں پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم برابر کی شریک ہیں۔

(جاری ہے)

پاسبان نے کراچی کو چارٹر سٹی کا حق دینے کے لئے تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔

پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ رد عمل میں الطاف شکور نے کہا کہ کراچی کو وفاق کی ماتحتی میں دینے کا اعلان ایک نیا سیاسی ڈرامہ ہے۔ یہ کراچی کے وسائل کو قبضے اور من پسند طریقے سے ہڑپ کرنے اور عام آدمی کو حسب سابق بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے لئے جاری نورا کشتی کا تسلسل ہے۔ کراچی کو وفاق کے ما تحت کرنا یا گورنر راج کے نفاذ کے آئیڈیاز مسائل کا دیر پا حل نہیں۔

یہ مزید دو چار سال ضائع کرنے کے لئے وقت گذاری ہے۔ اس سے کراچی مزید پیچھے جائے گااور مزید نفرتیں جنم لیں گی۔ کراچی کے مسائل کا پائیدار حل کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی درجہ دینا ہے تا کہ دنیا کے بڑے شہروں کی طرح یہاں کے مسائل اپنے وسائل سے اپنی قانون سازی کے ذریعے حل کئے جا سکیں۔ وفاقی وزیر فروغ نسیم کی سربراہی میں تشکیل کردہ اعلی سطحی کمیٹی اور وزیر اعظم عمران خان کا 14 ستمبر کو مجوزہ دورئہ کراچی ، کراچی کو ایک بار پھر نظر انداز کرنے اور بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کے لئے کسی بہانے کی تلاش ہے۔

پاسبان اس موقع پر کراچی کے عوام کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دے گی اور -" چارٹر سٹی" کے قیام کے لئے مربوط تھریک کا آغاز کرے گی۔ الطاف شکور نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر فروغ نسیم کا مقامی ٹی وی چینل کو دئے گئے انٹرویو میں آئین کے آرٹیکل 149 کی شق 4 کے تحت زیادہ سے زیادہ اتنا ہو گا کہ وفاق صوبے کو کہے گا کہ فلاں فلاں کام کئے جائیں، صوبہ حکم عدولی کرے گا تو وفاق عدالت میں جائے جہاں 3,4 سال کاروائی چلتی رہے گی۔

یہ کراچی کے مسائل کا حل نہیں۔ کراچی کی تباہی میں جتنا ہاتھ ایم کیو ایم کا ہے اتنا ہی صوبائی حکومت کا بھی ہے۔ ایم کیو ایم آج پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے۔ اگر یہ سب کراچی کے عوام سے مخلص ہیں تو کراچی کو چارٹر سٹی کا درجہ دینے میں تا خیر کیوں کر رہے ہیں کراچی آج جن حالات سے دوچار ہے یہ سب جانتے ہیں۔ کراچی کے شہریوں کو تعلیم و صحت کے مواقع نہیں، گلیاں، سڑکیں اور آبادیاں سیوریج کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

ایک بارش شہر کو ڈبو دیتی ہے۔ روزگار کے مواقع تباہ ہو چکے ہیں۔ کھیل کے میدان، پارک اور گرائونڈ چائنا کٹنگ کی نذر ہو گئے۔ کے الیکٹرک اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ کراچی کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ کوٹہ سسٹم ہے۔ کوٹہ سسٹم نے مہاجر اور سندھی بھائیوں کو آپس میں لڑایا اور سندھی مہاجر کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ کوٹہ سسٹم کا فائدہ وڈیروں اور جاگیر داروں نے اٹھایا۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی لیڈرشپ کوٹہ سسٹم کی راکھ میں بار بار چنگاری اس لئے سلگاتی ہے تا کہ اس ایشو کو زندہ رکھا جائے۔ اگر کوٹہ سسٹم کاا یشو ختم ہو گیا ، نفرتوں کی دیواریں گر گئیں تو پھر ان کی سیاست کیسے چلے گی الطاف شکور نے کہا کہ وزیر اعظم وقت گذاری اور وقت ضائع کرنے والے آئیڈیاز دینے والوںکے سحر سے نکل آئیں اور کراچی کے مسائل کے حل کے لئے عوامی مشاورت کریں ۔