جب قائداعظم ٹرافی نے پذیرائی پائی

1953 سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ نے کرکٹ کے مداحوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز لمحات دیئے ہیں۔ایونٹ میں کھلاڑیوں کی انفرادی اور اجتماعی کارکردگی مختلف اوقت میں شہ سرخیاں بنتی رہی ہیں

جمعرات ستمبر 20:54

جب قائداعظم ٹرافی نے پذیرائی پائی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 ستمبر2019ء) 1953 سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ نے کرکٹ کے مداحوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز لمحات دیئے ہیں۔ایونٹ میں کھلاڑیوں کی انفرادی اور اجتماعی کارکردگی مختلف اوقت میں شہ سرخیاں بنتی رہی ہیں۔

کراچی بمقابلہ لاہور:

20 سال قائداعظم ٹرافی میں اپنی دھاک بٹھانے والی ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں 90 کی دہائی میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے میں ناکام رہیں۔

جب مسلسل 17 ایونٹس میں صرف 2 مرتبہ ہی کوئی ڈیپارٹمنٹل ٹیم قائداعظم ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوسکی۔

اس دوران کراچی اور لاہور قومی کرکٹ کے 2 بڑے مرکز بن کر ابھرے۔ قائداعظم ٹرافی فائنل میچ میں کراچی اور لاہورکی ٹیمیں پہلی بار 60-1959 کو مدمقابل آئیں۔ فائنل میں یہ پہلا ٹاکرا تو کراچی کینام رہا تاہم 91-1990 سے 01-2000 تک دونوں شہروں کی ٹیمیں5 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ میں مدمقابل آئیں۔

(جاری ہے)

ان 5 مقابلوں میں 3 مرتبہ لاہور اور 2 مرتبہ کراچی کی ٹیم فاتح ٹھہری۔ لاہور سٹی اور لاہور بلیوز نے مجموعی طور پر 3مرتبہ ایونٹ اپنے نام کیا جبکہ کراچی وائٹس اور کراچی بلیوز نے ایک ایک بار ایونٹ اپنے نام کیا۔

 ہیروز:

قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 9 بلے بازوں نے انفرادی طور پرایک سیزن میں ایک ہزار سے زائد رنز اسکور کیے۔ اس فہرست میں سب سے پہلا نام سعادت علی کا ہے جنہوں نے 84-1983 میں ہاوٴس بلڈنگ اینڈ فنانس کارپوریشن کی نمائندگی کرتے ہوئے 1217 رنز اسکور کیے۔

فہرست میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں رضوان الزماں (1138)، اسد شفیق (1104)، یونس خان (1102)، امیر اکبر (1100)، آفاق رحیم (1088)، قاسم عمر (1078) ، نعیم الدین (1045) اور کامران اکمل (1035) کے نام شامل ہیں۔

قائداعظم ٹرافی کے ایک ایڈیشن میں سے سے زیادہ سنچریاں اسکور کرنے کا اعزازمشترکہ طور پر فیصل آباد کے اعجاز جونیئر اور ملتان کے نوید یاسین کے پاس ہے۔دونوں کھلاڑی ایک ایڈیشن میں 6، 6 سنچریاں اسکور کرچکے ہیں۔

لیجنڈری کرکٹر حنیف محمد کے پاس قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشنز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا منفرد اعزاز ہے۔

باوٴلنگ کے شعبے میں کراچی وائٹس کے تنویر احمد نے قائداعظم ٹرافی کے ایڈیشن 10-2009 میں 85 وکٹیں لے کر اعجاز فقیہ کا ریکار برابر کیا تھا۔ اعجاز فقیہ نے 86-1985 میں کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے قائداعظم ٹرافی کے ایک ایڈیشن میں 85 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں مجموعی طور پر 29 باوٴلرز ایک ٹورنامنٹ میں 50 سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ سب سے پہلے یہ اعزاز بہالپور کے آف اسپنر مرتضیٰ حسین نے اپنے نام کیا تھا۔ جس کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باوٴلر محمد عباس اور لاہور سے تعلق رکھنے والے فاسٹ باوٴلر اعزاز اچیمہ بھی یہ ریکارڈ بنا چکے ہیں۔ گذشتہ 4 ایڈیشنز میں محمد عباس اور اعزاز چیمہ 2، 2 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کے ایک ایونٹ میں 50 سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

دوسری جانب قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 3 باوٴلرز ایسے بھی ہیں جنہوں نے8 مرتبہ ایک اننگ میں5 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ اس فہرست میں کبیر خان، تنویر احمد اور محمد عباس کے نام شامل ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وکٹ کیپر نعیم انجم نے 15-2014 میں وکٹوں کے عقب میں 63 شکار کرکے قائداعظم ٹرافی کا نیا ریکارڈ قائم کیاجبکہ کاشف محمود (لاہور شالیمار) اور ذوالقرنین حیدر (زرعی ترقیاتی بنک) قائداعظم ٹرافی کے ایک ایڈیشن میں 50 سے زائد شکار کرنے والے 2 وکٹ کیپرز ہیں۔

انیل دلپت، عارف الدین اور ذوالفقار جان چار مرتبہ قائد اعظم ٹرافی کے بہترین وکٹ کیپر کا ایوارڈ اپنے نام کرچکے ہیں۔مسعود اقبال، ذوالقرنین حیدر، وسیم یوسفی، خالد محمود اور ذوالفقار جان کو مسلسل دو ایونٹس میں سب سے زیادہ شکار کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

فیلڈنگ کے شعبے میں ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر کا اعزاز راولپنڈی کے کرکٹر فہیم عباسی کے پاس ہے جنہوں نے ایک ایڈیشن میں میں 24کیچز پکڑے۔



سب سے زیادہ اور سب سے کم اسکور:

قائد اعظم ٹرافی کی تاریخ میں سب سے بڑا مجموعہ اسکور کرنے کا اعزاز سندھ کے پاس ہے۔74-1973 میں منعقدہ قائداعظم ٹرافی ٹورنامنٹ میں سندھ کی ٹیم نے بلوچستان کیخلاف 7 وکٹوں کے نقصان پر951 رنز کا مجموعہ اسکور کرکے اننگ ڈکلیئر کردی تھی۔اس اننگ میں سندھ ٹیم کے کپتان آفتاب بلوچ نے 428رنز بنائے تھے جو حنیف محمد کی 499رنز کی اننگ کے بعد پاکستان میں کسی بھی کھلاڑی کا سب زیادہ انفرادی اسکور ہے۔

قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں دوسرا سب سے بڑا مجموعہ کراچی بلیوز نیبنایا۔ کراچی بلیوز نے8 وکٹوں پر 802 رنز بنا کر اننگ ڈکلیئرکردی تھی۔

قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں سب سے کم اسکور کا ریکارڈ ڈھاکہ یونیورسٹی اینڈ ایجوکیشن بورڈ کے پاس ہے۔65-1964 میں قائداعظم ٹرافی کے ایک میچ کے دوران ڈھاکہ یونیورسٹی اینڈ ایجوکیشن بورڈ کی پوری ٹیم ڈھاکہ کیخلاف محض 29رنز پر ڈھیر ہوگئی۔



قائد اعظم ٹرافی میں بہترین انفرادی بولنگ کا اعزاز راولپنڈی کے فاسٹ باوٴلر نعیم اختر کو حاصل ہے جنہوں نے96-1995میں راولپنڈی بی کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور کیخلاف ایک اننگ میں 10وکٹیں حاصل کیں۔ نعیم اختر نے محض28رنز دے10 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا۔بائیں ہاتھ کے باوٴلر شاہد محمود 58 رنز دے کر 10 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے باوٴلر ہیں جبکہ اسپنر ذوالفقار بابر بھی 143 رنز دے کر 10 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔



18-2017 میں راولپنڈی کے باوٴلر سعد الطاف فاٹا کیخلاف میچ کی دونوں اننگز میں 8،8 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے 141 رنز کے عوض میچ میں 16 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا۔سعد الطاف کے علاوہ فاسٹ باوٴلر سہیل خان بھی قائد اعظم ٹرافی کے ایک میچ میں 16وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قائد اعظم ٹرافی کی ایک اننگ اور میچ دونوں میں بہترین باوٴلنگ کا ریکارڈ راولپنڈی کی نمائندگی کرنے والے باوٴلرز کے پاس ہی ہے۔

عامر وسیم، عبدالروٴف، فضل اکبر اورتاج ولی کو قائد اعظم ٹرافی میں 2 مرتبہ ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ 10-2009 میں زوہیب شیرا فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے واحد باوٴلر ہیں۔

دلچسپ حقائق:

قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 4 مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے جب فائنل میچ کا انعقاد نہیں کیا گیا بلکہ سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والی ٹیم کوایونٹ کا فاتح قرار دیا گیا۔

کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم سب سے زیادہ ، 29 مرتبہ ، ایونٹ کے فائنل میچ کی میزبانی کرچکا ہے جبکہ مجموعی طور پر 32 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ کی میزبانی شہر قائد کے حصے میں آئی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں 14 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا فائنل میچ کھیلا جاچکا ہے جبکہ مجموعی طور پر قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ کے 17 ایڈیشنز کی میزبانی شہر لاہور کے حصے میں آچکی ہے۔



قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ میں سب سے بڑے مارجن سے جیت کا اعزاز پنجاب اے کرکٹ ٹیم کے پاس ہے۔ 75-1974 میں پنجاب اے نے ماجد خان کی قیادت میں سند ھ اے کو ایک اننگ اور 248 رنز سے شکست دی تھی۔ مجموعی طور پر 9 مرتبہ کسی ٹیم نیقائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ میں حریف سائیڈ کو ایک اننگ کے بھاری مارجن سے شکست دی ہے۔

 6 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ میں جیت کا مارجن 200 رنز سے زائد رہا ہے۔

79-1978 میں نیشنل بنک کی حبیب بنک کے خلاف 384 رنز کی فتح اس فہرست میں سب سے پہلے نمبر پر ہے۔

ایونٹ کے فائنل میچ کی ایک اننگ میں سب سے بڑا مجموعہ 802 رنز ہے۔ 95-1994 میں کراچی بلیوز نے قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ میں لاہور سٹی کے خلاف 8 وکٹوں پر 802 رنز بنائے تھے۔ دوسری جانب سے ایونٹ کے فائنل میچ کی پہلی اننگ میں سب سے کم اسکور 111 رنز ہے جو 06-2005 میں فیصل آباد کا سیالکوٹ کے خلاف بنایا گیا اسکور ہے۔

ایونٹ کے فائنل میچ کی دوسری اننگ میں سب سے کم اسکور حبیب بنک کا رہا۔ 10-2009 میں کراچی بلیوز کے 208 رنز کے تعاقب میں حبیب بنک کی ٹیم 66 رنز پر ڈھیر ہوچکی ہے۔ حبیب بنک کی ٹیم 79-1978 میں ایونٹ کے فائنل میچ کی دونوں اننگز میں 100 سے کم رنز پر آوٴٹ ہوچکی ہے۔

قومی کرکٹ کے 7 بیٹسمین قائداعظم ٹرافی کے فائنل میچ میں ڈبل سنچریاں اسکور کرچکے ہیں۔

ان میں امتیازاحمد(251)، ماجد خان(213)، آصف مجتبیٰ(208)، محمود حامد(208)، یاسر حمید (207)، محمد رضوان(224)اور امام الحق(200ناٹ آوٴٹ)کے نام شامل ہیں جبکہ معین خان (200 ناٹ آوٴٹ) اور بابر اعظم(266) سلور لیگ کے فائنل میں ڈبل سنچریاں بناچکے ہیں۔

 باوٴلنگ کے شعبے میں سوئی نادرن گیس کے بلاول بھٹی کو بہترین انفرادی کارکردگی دکھانے کا اعزاز حاصل ہے۔

انہوں نے 56 رنز کے عوض 8 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا۔دوسری جانب عبدالوہاب، آفتاب بلوچ ، احتشام الدین اور سمیع اللہ نیازی بھی ایک اننگ میں 8 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

سلور لیگ کے فائنل میچ میں یاسر عرفات نے بہترین باوٴلنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 108رنز کے عوض 9 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کیا۔ لاہور سٹی کے آلراوٴنڈر عبدالرزاق نے 97-1996 کے فائنل میچ میں اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیو کرتے ہوئے 51 رنز کے عوض 7 کھلاڑیوں کو آوٴٹ کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلائی تھی۔



کامیاب کپتان:

قائداعظم ٹرافی میں شہر قائد کی قیادت کرنے والے کرکٹرز پر فتح کی دیوی خوب مہربان رہی۔قائداعظم ٹرافی کا اولین ٹائٹل تو بہاولپور نے خان محمد کی قیادت میں جیتا جنہیں پاکستان کی جانب سے پہلی ٹیسٹ وکٹ لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے مگر مجموعی طور پر سب سے کامیاب کپتان کراچی کے حنیف محمد رہے۔ ابتدائی سالوں میں کراچی کو3 ٹائٹل جتوانے والے عظیم بلے باز حنیف محمد مجموعی طور پر 4 مرتبہ بطور کپتان قائداعظم ٹرافی کو اپنے ہاتھوں میں تھام چکے ہیں۔

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم معین 2 مرتبہ کراچی وائٹس اور 1 مرتبہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ٹیم کو بطور کپتان چیمپئن بناچکے ہیں۔ معین خان کی قیادت میں کراچی ہاربر کی ٹیم ایک بار سلور ڈویڑن کی فاتح بھی قرار پاچکی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے آصف مجتبیٰ بھی بطور کپتان 3 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر محمد، وقار حسن، عارف بٹ، شفیق احمد، اعجاز فقیہ، راشد خان، مصباح الحق، حسن رضا اورمحمد حفیظ 2،2 مرتبہ بطور کپتان قائد اعظم ٹرافی جیت چکے ہیں۔



اس سے قبل سندھ 3 اور پنجاب 2 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیت چکا ہے۔ 14 ستمبر سے شروع ہونے والے آئندہ ڈومیسٹک سیزن میں قائداعظم ٹرافی کے فارمیٹ میں تبدیلی اور ٹیموں کی تعداد میں کمی کا بنیادی مقصد معیاری کرکٹ کو فروغ دینا ہے۔