بہاولپور میں 17 سالہ طالبعلم نے ٹیچر کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا

پولیس نے 17 سالہ حافظ معاویہ کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ ستمبر 12:34

بہاولپور میں 17 سالہ طالبعلم نے ٹیچر کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ..
بہاولپور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 ستمبر 2019ء) : پاکستان میں جنسی تشدد اور جنسی زیادتی کے کئی واقعات آئے روز رپورٹ ہوتے ہیں جنہیں سُن کر روح تک کانپ جاتی ہے۔ کبھی اسکول ٹیچرز اپنی شاگردوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں تو کبھی اسکول پرنسپل اپنی جنسی ہوس کو پورا کرنے کے لیے اسکول و کالج میں پڑھنے والی بچیوں کا شکار کرتے ہیں لیکن حال ہی میں بہاولپور میں ایک 17 سالہ نوجوان نے اپنی ٹیچر کو ہی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق بہاولپور کے ایک تعلیمی ادارے میں 17 سالہ طالبعلم حافظ معاویہ نے اپنی اسکول ٹیچر فروا شکیل کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اُسے بے دردی سے قتل کر کے لاش پھینک دی۔ پولیس نے ملزم حافظ معاویہ کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

پولیس کو دئے گئے بیان میں 19 سالہ فروہ شکیل کے بھائی نے بتایا کہ میری بہن کو پانچ ستمبر کو گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔

مغوی کے بھائی نے پولیس کو ریکارڈ کروائے گئے بیان میں کہا کہ پڑوس میں رہنے والے 17 سالہ لڑکے معاویہ کی میری بہن پر نظر تھی۔ مغوی کے بھائی شکیل نے کہا کہ میں نے کئی مرتبہ معاویہ کو منع کیا کہ وہ میری بہن سے دور رہے لیکن وہ وقتاً فوقتاً فروہ کو تنگ کرتا رہتا تھا۔ پانچ ستمبر کو میری بہن اور والدہ گھر پر تھیں۔ پانچ بجے کے قریب میری والدہ نماز پڑھ رہی تھیں جب معاویہ میرے گھر میں داخل ہوا اور میری بہن کو زبردستی اپنے ساتھ موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے گیا۔

فروہ نے خود کو بچانے کے لیے چیخ و پُکار بھی کی تھی۔ شکیل نے بتایا کہ ہمارے پڑوسیوں نے فروہ کی چیخ و پُکار سنی تھی اور انہیں گھر سے باہر نکلتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔ جس پر پڑوسیوں میں سے ایک شخص نے مجھے فون کیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا، فون سنتے ہی میں فوراً گھر آ گیا۔ شکیل نے الزام عائد کیا کہ معاویہ نے میری بہن کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے لیے اغوا کیا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 19 سالہ فروہ کی لاش ایک ریسکیو ٹیم کو نوشہرہ جدید کے قریب ایک نہر کے پاس سے برآمد ہوئی، فروہ کی لاش پر تشدد کے نشانات تھے۔ لاش کو ایدھی سینٹر پہنچایا گیا اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں جس کے بعد فروہ کے والدین نے ایدھی سینٹر سے رابطہ کیا۔ والدین کے علم میں لائے بغیر فروہ کا پوسٹمارٹم بھی کیا گیا تھا جس کے بعد فروہ کی لاش کو والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

فروہ کے والدین نے لاش کا دوبارہ پوسٹمارٹم کروانے کا مطالبہ کیا ۔ فروہ کے بھائی کی مدعیت میں معاویہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی فروہ سے دوستی تھی، ملزم نے فروہ کو بدھ کےروز قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ تاہم ملزم کے اعترافی بیان سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔