یہ سب افواہیں ہیں ، ڈیل سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے

جب نواز شریف اور مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں پہلی بار جیل گئے تھے تو تب شریف خاندان کو پیشکش کی گئی تھی کہ انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیج دیا جائے گا اور پھر وہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار کے خاتمے تک وہیں قیام کریں لیکن نواز شریف نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ کالم نگار ارشد وحید

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ ستمبر 11:19

یہ سب افواہیں ہیں ، ڈیل سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کوئی حقیقت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 ستمبر 2019ء) : گذشتہ چند روز سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مبینہ ڈیل سے متعلق خبریں گردش کر رہی ہیں جس پر کئی قسم کے دعوے ہو رہے ہیں تاہم کالم نگار ارشد وحید نے اپنے حالیہ کالم میں ڈیل سے متعلق ہونے والی تمام چہ مگوئیوں کو محض افواہیں قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دعووں اور افواہوں سے متعلق کچھ حقائق کی روشنی میں اس مبینہ ڈیل کی بازگشت کا جائزہ لیتے ہیں۔

سب سے پہلا تضاد تو خود حکومت کی طرف سے سامنے آ رہا ہے کہ ایک طرف شیخ رشید جیسے وزرا ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ نواز شریف پیسے دیں اور ملک سے باہر چلے جائیں ۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان بار بار اعلان کرتے ہیں کہ وہ ڈیل دیں گے اور نہ ہی ڈھیل اور نہ وہ کسی کو این آر او دیں گے تو پیسے دے کر باہر چلے جانا کیا ڈیل، ڈھیل اور این آر او کے زمرے میں نہیں آتا؟ اور دوسری جانب ان باتوں سے جو تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت شریف یا زرداری خاندان کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت نہیں برتے گی تو کیا وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ڈیل حکومت اور نواز شریف کے درمیان نہیں بلکہ نواز شریف اور کسی اور کے درمیان ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

اب اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں کیا ڈیل کی ضرورت نواز شریف کو ہے؟ تو بھی یہ گتھی آسانی سے سلجھ جاتی ہے۔ وزارت عظمیٰ سے فراغت سے لے کر کلثوم نواز کی رحلت، لندن سے بیٹی سمیت واپس آکر ایک مقدمے میں جیل جانے اور پھر اس میں سزا معطلی کے بعد دوسرے مقدمے میں دوبارہ قید ہونے اور اپنی آنکھوں کے سامنے بیٹی کی دوبارہ گرفتاری کو دیکھنے تک کون سی مشکل ہے جو نواز شریف نہیں جھیل چکا۔

وہ اب کس رعایت کے لیے ڈیل چاہے گا اور پھر اپنی عزت نفس کی پامالی کو سب سے بڑا دکھ سمجھنے والا نواز شریف کیا اس مرحلے پہ کسی ڈیل کے تحت اپنی اور اپنی بیٹی کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے پہ تیار ہو سکتا ہے۔ جواب یقیناً بہت آسان ہے، مختلف ذرائع سے حاصل معلومات کی بنیاد پہ مبینہ ڈیل کی اصل حقیقت سے بھی قارئین کو آگاہ کردوں کہ جب نواز شریف اور مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں پہلی بار جیل گئے تھے تو تب شریف خاندان کو پیشکش کی گئی تھی کہ انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیج دیا جائے گا اور پھر وہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار کے خاتمے تک وہیں قیام کریں لیکن نواز شریف نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

اب گذشتہ چند ماہ سے افواہیں پھیل رہی ہیں کہ ایک بار پھر ڈیل کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں اور نواز شریف کو پیغامات آ رہے ہیں، پیشکش اب بھی وہی ہے کہ نواز شریف اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان چھوڑ جائیں اور حالات سازگار ہونے کے بعد انہیں واپس بلا لیا جائے گا لیکن اپنے بیانیے پہ قائم نواز شریف کا جواب آج بھی وہی ہے۔ جہاں تک ن لیگ کے رہنماؤں کی ڈیل کی حمایت کی بات ہے تو اس میں صرف اس حد تک صداقت ہے کہ شہباز شریف سمیت چند سینئر پارٹی رہنما مزاحمت کے بجائے مفاہمت کے قائل ہیں اور وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو احتجاج کے بجائے اپنے بوجھ سے خود گرنے دینے کی پالیسی کے قائل ہیں۔

یہ پارٹی رہنما تو احتساب عدالت پیشی کے وقت بھی نہیں پہنچتے کہ مبادا کسی مقدمے میں ان کا نام نہ آ جائے، افواہیں ہیں کہ ایسے پارٹی رہنمائوں سے نواز شریف اور مریم نواز سخت ناراض ہیں جس کا اظہار انہوں نے کیپٹن (ر) صفدر کی طرف سے مولانا فضل الرحمٰن کو اکتوبر دھرنے کی حمایت کا پیغام دے کر کر دیا ہے۔