نواز شریف کا ویڈیو سکینڈل میں مریم نواز کے خلاف بیان دینے والے لیگی رہنماؤں کے خلاف سخت فیصلہ

بیان دینے والے رہنماؤں کو پارٹی سے نکالنے یا سائیڈلائن کرنے کا فیصلہ،بیان دینے والوں میں شہباز شریف، احسن اقبال اور خواجہ آصف شامل ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ ستمبر 11:40

نواز شریف کا ویڈیو سکینڈل میں مریم نواز کے خلاف بیان دینے والے لیگی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 ستمبر 2019ء) : معروف صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ ویڈیو سکینڈل میں پاکستان مسلم لیگ ن کے 7 رہنماؤں نے مریم نواز کے خلاف بیان دئیے۔ان رہنماؤں میں میاں شہباز شریف، احسن اقبال اور خواجہ آصف نمایاں نام ہیں،جنہوں نے کہا کہ ہمیں تو اس ویڈیو کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں۔اب جب کیس کو فائنل کیا جائے گا تو ان بیانات کی روشنی میں سب کچھ دیکھا جا ئے گا۔

ویڈیو سکینڈل میں دو ملزمان بھی مفرور ہیں جن پر ویڈیو سکینڈل کا الزام عائد کیا گیا۔جن کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ایک تھائی لینڈ اور ایک انگلینڈ میں ہے۔جب تک انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا تو تب تک دیگر افراد کی بیانات کی روشنی میں سارا الزام مریم نواز پر آ رہا ہے۔کیونکہ پریس کانفرنس مریم نواز نے کی اور وہی تمام چیزیں سامنے لے کر آئیں۔

(جاری ہے)

ن لیگ کے رہنماؤں کے بیانات پر مریم نواز اور نواز شریف سخت نالاں ہیں۔نواز شریف نے اپنے قریبی ساتھیوں کو پیغام دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں جیسے ہی حالات ٹھیک ہوں گے تو جن رہنماؤں نے مریم نواز کے خلاف بیان دئیے ہیں انہیں پارٹی پوزیشن سے الگ کر دیا جائے گا۔رانا عظیم کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ ان افراد کی پارٹی کے اندر پوزیشن کمزور ہو رہی ہے اور نواز شریف کا گروپ ان کی کسی قسم کی بات بھی نہیں مان رہا۔

بلکہ کہا جا رہا تھا کہ خواجہ آصف جنہیں تمام قسم کی ذمہ داریاں دی جا رہی تھیں ان ذمہ داریوں کو بھی آہستہ آہستہ کم کیا جا رہا ہے۔جب کہ شہباز شریف کے حوالے سے بھی واضح تائید کی گئی ہے کہ ان کی باتوں پر کان نہیں دھرنا جب کہ عطااللہ تارڑ کے بارے میں بھی یہی ہدایات ہیں۔اس کے علاوہ مریم نواز کے خلاف بیان دینے والے احسن اقبال کی پوزیشن بھی کمزرو ہو رہی ہے۔احسن اقبال کی نواز شریف گروپ میں اہمیت کم ہو گئی ہے۔جب کہ ن لیگ میں ایک گروپ نے انن میٹنگز میں جانا چھوڑ دیا ہے جس کی اطلاع خواجہ آصف یا پھر احسن اقبال کی طرف سے دی جاتی ہے۔