ایڈ ایشیا لاہور2019 کیلئے تعارفی تقریب کا کراچی میں انعقاد

صدر عارف علوی، رچرڈ کوئیسٹ، لارڈ ولیم ہیگ، رینڈی زکربرگ، سر مارٹن سوریل اور دیگر بین الاقوامی مقررین،دسمبر میں ایڈایشیا 2019 میں شرکت پاکستان میں تیز رفتار سماجی اور معاشی ترقی کا آغاز ہو چکا ،ابھرتے ہوئے کاروباری مواقع سے بہت فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، عارف علوی اگلے چند برسوں کے دوران ، ہماری ایڈورٹائزنگ کی صنعت کے محصولات میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گا،عالمی مندوبین کو لاہور کے تاریخی شہر کی سیر کے علاوہ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحت کا لطف بھی ضرور اٹھانا چاہئے، صدر مملکت کا پیغام

ہفتہ ستمبر 17:11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 ستمبر2019ء) ایڈ ایشیا 2019کانگریس کے حوالہ سے، کراچی میں ایک تعارفی عشائیہ اور پردہ کشائی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس کی میزبانی ، ایڈ ایشیا 2019 کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین سرمد علی اور پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسو سی ایشن (PAA)کے چیئرمین علی مانڈوی والا نے کی۔ ان دونوں صنعتی راہنمائوں نے ایڈورٹائزنگ کی صنعت سے وابستہ افراد اور میڈیا کے ارکان کے علاوہ ، مارکیٹنگ کے شعبہ سے متعلقہ شخصیات کو، اجلاس سے خطاب کرنے والے بین الاقوامی ماہرین کے متعلق آگاہ کیا۔

ایڈ ایشیا ایڈورٹائزنگ کی صنعت سے متعلق ، بر اعظم ایشیا میں ہونے والا، نامور اور وسیع ترین کانگریس ہے۔ اس سلسلہ کا آغاز سنہ 1958 میں ہوا اور آج تک ہر سال میں دو مرتبہ، ایشین فیڈریشن آف ایڈورٹائزنگ ایسو سی ایشنز (AFAA) اس کانگریس کا انعقاد کرتی ہے ۔

(جاری ہے)

ایڈ ایشیا 2019اس سلسلے کا 31 واں اور پاکستان میں منعقد ہونے والا دوسرا اجلاس ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو اس کانگریس کا افتتاح کرنے کے لئے مدعو کیا گیا ہے ، جس کا موضوع ہے سلیبریشن آف ایڈورٹائزنگ اینڈ کریٹیوٹی ان ایشیا، کانگریس کا انعقاد ، پاکستانی ثقافت سے مالا مال ، تاریخی شہر - لاہور میں کیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تصور کو فروغ دیا جائے ۔

صدرِ پاکستان ، ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اس کانگریس کے حوالہ سے شرکاء اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لئے ایک خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان میں تیز رفتار سماجی اور معاشی ترقی کا آغاز ہو چکا ہے، لہٰذا یہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے نہایت موزوں دور ہے، جس میں ابھرتے ہوئے کاروباری مواقع سے بہت فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اگلے چند برسوں کے دوران ، ہماری ایڈورٹائزنگ کی صنعت کے محصولات میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گا۔ بین الاقوامی مندوبین کو لاہور کے تاریخی شہر کی سیر کے علاوہ ، پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحت کا لطف بھی ضرور اٹھانا چاہئے۔ سرمد علی نے کہا کہ ؛ پاکستان کے لئے یہ قابل فخر کارنامہ ہے کہ؛ ہم تیس سال بعد، ایک بار پھر ایڈ ایشیا کی میزبانی کر رہے ہیں۔

1989 میںپاکستان میں ہونے والا ایڈ ایشیا بھی ایک یادگار کانگریس تھی، جس میں شرکاء کو قیمتی معلومات ،ترقیاتی سمت اور حکمت عملی سے آگاہ کیا گیاتھا، جس کے باعث پاکستان کی ایڈورٹائزنگ صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا ۔اس سال ، ایک بار پھر، ہمارا عزم ہے کہ ؛ پاکستان میں ہونے والے اس ایڈ ایشیا 2019 کی بدولت اپنی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کی صنعت کو نئی بلندیوں پر پہنچائیں گے۔

جاوید جبار، پاکستانی ایڈورٹائزنگ کی نامور ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔انہوں نے اس صنعت کے پیشہ ور اداروں کی مسلسل کاوشوں اور کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اس تقریب کے دوران کہا کہ؛ 30 سال کے بعد ایڈ ایشیا کانگریس کی ایک مرتبہ پھر میزبانی کرنا ، پاکستان کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔دنیا کے کچھ خطّوں میں،غیر منصفانہ طور پر، پاکستان کی ساکھ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے کے سلسلے میں ،یہ شاندار کانگریس ایک اہم اقدام ہے ۔

اس کے زریعے دنیا میں پاکستان کی اصل صورتحال کی عکاسی کی جاے گی ۔ ہم نہایت امن پسند اور باہمی ترقی کے خواہاںافراد ہیں۔ دیگر ممالک کے جو بھی افراد پہلی بار پاکستان تشریف لاتے ہیں، انہیں ہماری گرم جوشی اور بہترین میزبانی کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ جاوید جبّار نے مزید کہا کہ؛ ایڈ ایشیا 2019میں آنے والے مہمان، خصوصاً غیر ملکی افراد یقینا یہ محسوس کریں گے کہ پاکستان میں مشکل معاشی حالات کے باوجود ، ہمارے کمیونی کیشن ، میڈیا اور مارکیٹنگ کے شعبے نہایت متحرک اور فعال ہیں۔

پاکستان میں ایک پر جوش قوم اور تخلیقی صلاحیتیں دیکھنے کے علاوہ ، انہیں ہماری اعلیٰ تہذیب اور شاندار روایات کا تجربہ بھی حاصل ہو گا۔ دسمبر کے مہینہ میں لاہور میں منعقد ہونے والی اس پر کشش اور معلوماتی تقریب سے میں بہترین توقعات رکھتا ہوں۔ایک بار پھر ایڈ ایشیا کانگریس کی میزبانی ایک قابل فخر کارنامہ ہے ۔ یہ شاندار اجلاس پاکستان کو ایڈورٹائزنگ کی دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام دلائے گا، اور ہم ایک ایسی ترقی پسند قوم کے طور پر پہچانے جائیں گے، جو عالمی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

عالمی شہرت یافتہ مقررین مثلاً؛ برطانیہ کے سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ - لارڈ ولیم ہیگ، CNN کے چیف بزنس کو ریسپانڈنٹ - رچرڈ کوئیسٹ، زکربرگ میڈیا کی بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر رینڈی زکربرگ، مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابق مارکیٹنگ ڈائریکٹر پیٹر ڈریپر، WPP plc کے بانی سر مارٹن سوریل ، برگر کنگ کے گلوبل چیف مارکیٹنگ آفیسر - فرنانڈو ماکاڈو اور زینیتھ میڈیامیں شعبہ ایجادات کے سربراہ ٹام گڈ وین ، ایڈ یشیاء 2019 میں مقررین کی حیثیت سے اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔

علی مانڈوی والا نے اجلاس کے تمام شرکاء کی پر جوش دلچسپی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ؛ جدید ٹیکنالوجیز کے باعث کمیونی کیشنز کی دنیا میں انقلابی جدّت پیدا ہوئی ہے اور ایڈ ایشیاء لاہور، اب پاکستان کی ایڈورٹائزنگ صنعت میںبھی نئی ٹیکنالوجیز کو متعارف کروانے میںایک اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ کانگریس ،ایک اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم ہے ، جہاں اس صنعت کے ماہرین ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت سے سیکھتے ہوئے موثر حکمت عملی تیار کر سکیں گے، اور اجتماعی ترقی کی رفتار کو تیز تر کیا جاسکے گا۔

اس کانگریس میں موجود ذہین مقررین کے اہم ترین موضوعات پر تبصرے اور راہنمائی ہی اسے پر کشش بنائے گی۔کانگریس کے آرگنائزرنے ایڈ ایشیا 2019 کے پارٹنرز اور اسپانسرز کے بارے میں بھی تفصیل بتائی جن میں EBM بطور پلیٹینم پارٹنر شامل ہے۔