Live Updates

جنیوامیں بھارت کااصلی چہرہ بے نقاب کیا،جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کودنیا دیکھے گی۔مخدوم شاہ محمودقریشی

ہفتہ ستمبر 20:10

جنیوامیں بھارت کااصلی چہرہ بے نقاب کیا،جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران ..
ملتان ۔14 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 ستمبر2019ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کو دنیا دیکھے گی۔عمران خان نیو یارک میں کشمیر کے سفیر کے طور پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے۔جنیوا میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھا کر بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب کرایا۔

میری تقریر کے بعد جنیوا میں 58 ممالک نے پاکستان کے بیانیے کا ساتھ دیا۔مسئلہ کشمیر پر مسلم امہ ‘ او آئی سی ہمارے ساتھ ہے۔آج دنیا میں بھارت پر تنقید ہورہی ہے۔ اپوزیشن کشمیر کے معاملے پر سیاست نہ کرے۔ اپوزیشن کو اسمبلی میں صدارتی تقریر سننی چاہیئے تھی ۔اپوزیشن کے رویے کے باعث بھارت میں ہمارا مذاق اُڑایا جا رہاہے۔

(جاری ہے)

بھارتی آرمی چیف کا آزاد کشمیر پر بیان گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کہہ چکے ہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔مولانافضل الرحمان برساہا برس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ۔ مولانا فضل الرحمان کو مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرنا چاہیے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات ہو رہی تھی تو اپوزیشن کو چاہیے تھا کشمیر پر ہمارا ساتھ دیتے۔مولانا فضل الرحمان کو اسلام آباد مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔

قوم کشمیر کی جنگ لڑرہی ہے اور وزیراعظم پاکستان نیو یارک میں دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ پیش کررہے ہونگے اور مولانا لانگ مارچ کی باتیں کررہے ہیں ۔میری درخواست ہے کہ مولانا اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔انہوں نے کہا لائن آف کنٹرول پر ہم صبر کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ہم سوچ سمجھ کر بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کا جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ دوسری جانب ہمارے مسلمان بھائی اکثریت میں رہتے ہیں۔

کرتار پور بارڈر کے حوالے سے اپنے فیصلے پر قائم ہیں یہ اپنے وقت پر کھلے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزیونین کونسل 22میں سیوریج کے منصوبے کے افتتاح سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی ‘ چیئرمین پی ایچ اے اعجاز جنجوعہ سمیت معززین علاقہ کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے نوجوانوں کو کہاکہ لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ کے لئے انکے حکم کا انتظار کریں۔وزیر خارجہ نے کہا مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے 41 دن ہو چکے ہیں، بھارتی فوج نے محرم الحرام میں امام بارگاہ پر حملہ کیا۔بھارتی فوج نوجوان بچوں کو گھروں سے اٹھا کر تشدد کر رہی ہے، بچے جب تشدد سے بے ہوش ہو جاتے ہیں تو انھیں کرنٹ لگایا جاتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے منہ پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔ کشمیرکے نوجوانوں کوبجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ دنیا کے ہردارالحکومت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی اقدامات پر شدید تنقید کر رہی ہیں، بھارت پر عالمی دباؤ کو مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے، مقبوضہ کشمیرمیں نئی نسل بھی بھارت کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہاہم نے سفارتی کوششوں کیساتھ مسئلہ کو پوری دنیا میں اجاگر کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وادی میں موبائل،انٹرنیٹ سروس بند ہے، کرفیو کو چالیس روز ہو گئے، محرم میں بھارتی فوج نے کشمیرمیں امام بارگاہوں پرحملہ کیا۔ دنیا بھر میں آج مسئلہ کشمیرپربحث ہو رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپین پارلیمنٹ، امریکی کانگریس کے لوگ بھی کشمیر کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ 1965ء کے بعد 54سال بعد سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیرپربات ہوئی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر یک جہتی کااظہار کرنے والے تمام افراد کا شکر گزار ہوں، دنیا کے مختلف ممالک میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے ۔

اس کی نظیر ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔قبل ازیں کی حکومتیں 5فروری کو یوم کشمیر منایا کرتے تھے۔ ہم نے اس سال یوم کشمیر ہائوس آف لارڈزاور لندن کی سڑکوں پر منایا۔ ہم نے مسئلہ کشمیر پر دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگایا۔ یہ ہماری کامیاب سفارت کاری ہے کہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی پوری دنیا میں مذمت کی جارہی ہے۔ مغربی میڈیا بھارت کی زیادتیوں کو اجاگر کررہا ہے۔

افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم آج بھی اسی بات پر قائم ہیں کہ افغانستان میں امن کا واحد حل ڈائیلاگ پر ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔مذاکرات میں تعطل عارضی ہے ہماری خواہش ہے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہیئں۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملتان کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملتان میں سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے منصوبے شروع کر رہے ہیں، سیوریج کا مسئلہ حل کیے بغیرسڑکیں بنانا بے معنی ہو گا، سیوریج کے بعد سڑکوں کو بنایا جائے گا۔

این اے 156میں ملتان میں مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی آج رکھ رہا ہوں۔یہاں کے سب سے بڑا مسئلہ سیوریج کا نظام ہے یہاں کی عوام اس مسئلہ کی وجہ سے شدید پریشان ہے۔ آج یوسی21 اور 22میں سیوریج کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ رہا ہوں جس کی تکمیل سے یہاں کے عوام کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات