صرف 1 سال کے اندر ہی تجارتی خسارہ %38 کم، برآمدات میں اضافہ

حکومت نے مشکل وقت میں مشکل فیصلے لیکر معیشت کو درست سمت پہ ڈال دیا ہے جس کے ثمرات بہت جلد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے: عثمان ڈار

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ ستمبر 20:36

صرف 1 سال کے اندر ہی تجارتی خسارہ %38 کم، برآمدات میں اضافہ
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 ستمبر2019ء) وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی عثمان ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں صرف 1 سال کے اندر ہی تجارتی خسارہ %38 کم ہو گیا ہے اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عثمان ڈار نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں صرف 1 سال کے اندر ہی تجارتی خسارہ %38 کم ہو گیا ہے، برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ بھی بڑھ گیا ہے۔

حکومت نے مشکل وقت میں مشکل فیصلے لیکر معیشت کو درست سمت پہ ڈال دیا ہے جس کے ثمرات بہت جلد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔‘‘
انہوں نے یہ باتیں آج وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوانے والے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد کہی ہیں۔ خیال رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں وزیرمنصوبہ بندی، وزیر اقتصادی امور، مشیرتجارت ودیگر نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین ایف بی آر نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیکس اصلاحات پر بریفنگ دی۔ ٹیکسوں کی وصولی میں بہتری اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا۔ حالیہ مہینوں میں ٹیکسوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال پہلے 2 مہینے میں برآمدات اور درآمدات کی مد میں تجارتی خسارے میں 38 فیصد کمی ہوئی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بند صنعتی یونٹس کی بحالی کیلئے فوری لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ اپارٹمنس کی تعمیرات اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تعمیرات کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ زراعت کے ہرشعبے کی ترقی کیلئے ایک مفصل پالیسی تشکیل دی ہے۔ طے شدہ حکومتی اہداف کی تکمیل مقررہ وقت میں یقینی بنائی جائے۔ وزارتیں سہ ماہی اہداف کی تکمیل کا طریقہ کار وضع کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو گمراہ کن عناصرکی غلط معلومات سے بچایا جائے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے اہداف ملنا شروع ہوگئے۔ حکومتی معاشی پالیسی سے برآمدات میں اضافہ ہوا، نجی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔