ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑی پیش رفت

نقصان دہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ایندھن بنائے جانے کی تیاری

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار ستمبر 06:22

ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑی پیش رفت
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2019ء)   وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور آکسیجن کی کمی ہونے کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھتی جا رہی ہے جو کہ انسانی صحت اور دیگر جانداروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔اگرچہ اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ تو درختوں کی کٹائی اور نئے درخت نہ اگانا ہے۔تاہم دنیا بھر میں صنعتی انقلاب اور پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ گھمبیر صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ہر ملک انفرادی طور پر اپنے ملک کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمہ کے لیے کام کر رہا ہے۔تاہم امریکہ میں حال ہی میں ایک ایسی ریسرچ کی گئی ہے کی جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خاتمہ کرنے کی بجائے اس سے فائدہ لیا جانے لگا ہے۔

(جاری ہے)

اس تحقیق پر ابھی تجرباتی عمل دہرایا جا رہا ہے اور ماہرین پرامید ہیں کہ اس سے عالمی درجہ حرارت میں خاطر خواہ تبدیلی آئے گی۔

امریکی ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس کے تحت ماحول دشمن اور عالمی تپش کی وجہ بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو مائع ایندھن میں آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ماہرین کاکہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ کار تجارتی پیمانے پر کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ کیمیائی صنعتوں پر بھی انقلابی اثرات مرتب کرے گا۔اس ٹیکنالوجی میں فارمک ایسڈ تیار ہوتا ہے جس کو متعدد کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہیوسٹن میں واقع رائس یونیو رسٹی کے ماہرین نے اس طر یقے کو تیار کیا ہے۔اس طر یقے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تدابیر سے ہٹ کر ہے جو عام طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ ختم کرنے کے لیے نمک کے محلول جیسے مائع الیکٹرو لائٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔بعدازاں نمکیات میں توانائی جمع کی جاتی ہے لیکن اس عمل میں فارمک ایسڈ کا گاڑھا سوپ بن جاتا ہے۔نئی ٹیکنالوجی میں مائع کی جگہ ٹھوس الیکٹرولائٹ استعمال کیے گئے ہیں، جس میں بسمتھ نامی دھات سر فہرست ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بڑی مقدار میں ایندھن میں بدلا جاسکتا ہے۔ابتدا ء میں جو تجربات کیے گئے ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں ایندھن کی شر ح 42 فی صد تک حاصل کی گئی ہے۔