ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، عبدالحفیظ شیخ

ہم نے ٹیکس ریونیو کے لیے 5.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، پچھلے سال ٹیکس میں 509 ارب اور اس سال 580 ارب جمع ہوئے۔ وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار ستمبر 18:16

ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، عبدالحفیظ شیخ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 ستمبر2019ء) وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، ہم نے ٹیکس ریونیو کے لیے 5.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، پچھلے سال ٹیکس میں 509 ارب اور اس سال 580 ارب جمع ہوئے۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو میں بتایا کہ ہم پُرامید ہیں اس سال زراعت میں اضافہ ہوگا۔ پچھلے پانچ سال میں زراعت میں زیرو فیصد اضافہ ہوا۔

زراعت کیلئے 250ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی۔ زراعت کے شعبے میں اصلاحات چاہتے ہیں۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ پبلک سیکٹر میں نہ چل سکنےوالے ادارے پرائیوٹ سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کیا۔ دس نئی کمپنیوں کی پرائیوٹائزیشن کیلئے اشتہار دے دیے گئے ہیں۔ ایک اور سیلولر کمپنی سے 70ارب روپے اضافی ملنےکی امید ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اخراجات پر کنٹرول کیلئے اسٹیٹ بینک سے ادھار نہیں لیا۔

ایکسچینج ریٹ بہتر ہوا،جون جولائی کے دوران روپے کی قدر بڑھی۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ نان ٹیکس آمدنی کے تحت دو سیلولر کمپنیوں سے 70ارب روپے وصول ہوئے۔ ٹیکس فائلرز کی تعداد 19 لاکھ تھی بڑھا کر 25 لاکھ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر میں 6لاکھ ٹیکس دہندگان کو رجسٹر کیا گیا اور مزید بڑھایا جائےگا۔ ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیاں کر دی گئیں اب کوئی واجب الادا نہیں۔

ایسا پروگرام متعارف کرا رہے ہیں جس میں ایکسپورٹرز کو فوری ری فنڈ ملے گا۔ آئندہ  سے ہر مہینے کی 16تاریخ کو ٹیکس ریفنڈ ہوجایا کرےگا۔ تیس کمپنیوں میں ری اسٹرکچرنگ کریں گے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے ٹیکس  ریونیو کے لیے 5.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ پچھلے سال ٹیکس میں 509 ارب اور اس سال 580ارب جمع ہوئے۔ ملک میں  اداروں  کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ ہم صرف عوام کے فائدے کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفاف انداز میں اداروں کی نجکاری چاہتے ہیں۔ آر ایل این جی پلانٹس کی نجکاری اس سال ہوجائے گی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت میں آئے تو اقتصادی طور پرملک دیوالیہ ہونے کی طرف جا رہا تھا۔ معیشت کو بحران سے استحکام کی طرف لے جانے میں کئی اقدامات اٹھائے۔

حکومت کے اخراجات کم اور دفاع کا بجٹ منجمد کیا۔ جولائی میں پچھلے سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ  اور درآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 73 فیصد کمی کی گئی۔ پچھلے سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ بہت تباہ کن تھا۔ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی لائی گئی۔ جون اور جولائی میں روپے کی قدر میں بہتری آئی۔ روپے کی قدر میں بہتری سے 246ارب کا اضافہ ہوا۔ روپے کی قدر اب مستحکم ہے۔ اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے۔ ہم سخت انداز میں اخراجات میں کمی لائے ہیں۔ ملک کی معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے۔ ستمبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی۔