Live Updates

معاشی ٹیم نے نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا عندیہ دیدیا

اداروں کی تشکیل نو اور 10 اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائیگا، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں،بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے ہیں ،ٹیکس وصولی میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا اور فائلرز کی تعداد بڑھائی گئی،درآمدات میں کمی کرکے برآمدات میں اضافہ کیا گیا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 70 فیصد تک کمی لائی گئی، رواں سال جولائی اور اگست میں 580 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کیے گئے ، 23 اگست سے ٹیکس ریفنڈ کا سلسلہ شروع کردیا گیا، اب ریفنڈ فوری طور پر ہوں گے اور 100 فیصد ہوں گے،صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں ،ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، حفیظ شیخ کی شبر زیدی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس

اتوار ستمبر 19:30

معاشی ٹیم نے نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا عندیہ دیدیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 ستمبر2019ء) وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا عندیہ دیتے ہوئے کہاہے کہ 20 اداروں کی تشکیل نو اور 10 اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائیگا، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں،بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے ہیں ،ٹیکس وصولی میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا اور فائلرز کی تعداد بڑھائی گئی،درآمدات میں کمی کرکے برآمدات میں اضافہ کیا گیا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 70 فیصد تک کمی لائی گئی، رواں سال جولائی اور اگست میں 580 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کیے گئے ، 23 اگست سے ٹیکس ریفنڈ کا سلسلہ شروع کردیا گیا، اب ریفنڈ فوری طور پر ہوں گے اور 100 فیصد ہوں گے،صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں ،ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔

(جاری ہے)

خیالات کا اظہار مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے چیئر مین ایف بی آر سید شبر زیدی ، سیکرٹری خزانہ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔حفیظ شیخ نے کہاکہ پبلک سیکٹر میں نہ چلنے والے ادارے پرائیوٹ سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کیا، 10 نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہار دئیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ 20 اداروں کی تشکیل نو اور 10 اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں۔

مشیر خزانہ نے اعلان کیا کہ نجکاریوں کا عمل تیزی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا اور مسائل کا شکار بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی بھی نجکاری کی جائے گی۔انہوں نے کہ کہاکہ رواں سال جولائی اور اگست میں 580 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کیے گئے جبکہ 23 اگست سے ٹیکس ریفنڈ کا سلسلہ شروع کردیا گیا، اب ریفنڈ فوری طور پر ہوں گے اور 100 فیصد ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ مذکورہ نظام کے تحت جیسے ہی ایکسپورٹرز اپنا ڈیٹا ڈالے گا ہر مہینے کی 16 تاریخ کو ریفنڈ بن جائیگا۔

انہوںنے کہاکہ جب یہ حکومت آئی تو ملک کی اقتصادی صورتحال بری تھی، سب سے فکر مند بات یہ تھی کہ ہماری بیرونی معیشت کی صورتحال خراب تھی تاہم جولائی میں برآمدات میں پچھلے سال کی نسبت اضافہ اور درآمدات میں کمی ہوئی۔مشیر خزانہ نے کہاکہ ڈالر کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں دوست ملکوں نے بھر پور تعاون کیا۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 6 لاکھ اضافہ ہوا، جب حکومت آئی تو 19 لاکھ ٹیکس فائلرز تھے جو اب 25 لاکھ ہوچکے ہیںمشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے دعویٰ کیا کہ ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوچکی ہے، اس ضمن میں حکومتی اخراجات کم کیے گئے اور دفاعی بجٹ کو گزشتہ سطح پر برقرار رکھا گیاانہوں نے بتایا کہ جس وقت موجودہ حکومت وجود میں آئی تو معاشی اشاریے پریشان کن تھے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر معاشی اصلاحات کے ذریعے صورتحال کو بہتر کیا گیا۔

انہوںنے کہاکہ روپے کی قدر اب مستحکم ہے اور اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے، ہم صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں تاہم ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔انہوںنے کہاکہ لوگوں میں خوشحالی لانا چاہتے ہیں، ہمارا کام پاکستان کے عوام کیلئے ہے، پاکستان کے لئے ہم دنیا کی ہر طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے تیار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ریونیو اکھٹا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بیرونی قرض نہ لینا پڑے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا اور فائلرز کی تعداد بڑھائی گئی۔عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ حکومت نے اخراجات پر کنٹرول کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے ادھار نہیں لیا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ2015 سے لیکر اب تک 22 ارب روپے پر مشتمل سیلز ٹیکس ریفنڈز کے آر پی او تشکیل دے دئیے اور اب حکومت کے اوپر کوئی سیلز ٹیکس کی آرپی او نہیں ہے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے اپنا ایک وعدہ پورا کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر مہینے گردشی قرضے میں 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے، نان ٹیکس آمدنی کے تحت 2 سیلولر کمپنیوں سے 70 ارب روپے وصول ہوئے، ایک اور سیلولر کمپنی سے 70 ارب روپے اضافی ملنے کی امید ہے۔زراعت کی ترقی کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں زراعت میں صفر فیصد اضافہ ہوا، زراعت کے شعبے میں اصلاحات چاہتے ہیں، اس کے لیے 250ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، پرامید ہیں رواں سال زراعت میں اضافہ ہوگا۔

مہنگائی کے حوالے سے سوال پر انہوںنے کہاکہ مہنگائی کو کنٹرول کر ناایک چیلنج ہے اور ہماری کوشش ہے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے ۔انہوںنے کہاکہ رواں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے جس کے باعث کئی اشیاء کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں اورمجھے امید ہے اگر پٹرول کی قیمتیں مزید کم ہوئی تو عوام کو ریلیف ملے گا ۔انہوںنے کہاکہ اس حکومت کی سب سے بڑی کوشش مہنگائی پر قابو پانا ہے تاہم پاکستان میں بے شمار اشیا باہر سے آتی ہیں اس لیے ہم نے چند درآمد پر ٹیکس ختم کیا ہے۔
وزیراعظم کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے متعلق تازہ ترین معلومات