چین کی جانب سے امریکا سے روئی کی خریداری دوبارہ شروع کرنے اور رواں سال کپاس کی پیدوار کم ہونے سے روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان

پاکستان میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں 300 سے 400 روپے فی من اضافہ ہوا، چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق

اتوار ستمبر 19:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 ستمبر2019ء) چین کی جانب سے امریکا سے روئی کی خریداری دوبارہ شروع کرنے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں رواں سال کپاس کی پیداوار توقعات سے کم ہونے کے باعث روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان ۔پاکستان میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں 300 سے 400 روپے فی من اضافہ ۔چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل چین اور امریکہ کے درمیان جاری اقتصادی جنگ کے باعث دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر بے تحاشہ ٹیکسوں کے نفاذ کے ساتھ ساتھ چین نے امریکا سے روئی سمیت تمام زرعی مصنوعات کی خرید معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے باعث نیویارک کاٹن ایکسچینج اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کا رجحان سامنے آیا تھا اور دو ہفتے قبل پاکستان میں روئی کی قیمتیں 8 ہزار 200 روپے فی من تک گر گئیں تھیں تاہم ان میں پچھلے دو ہفتوں کے دوران بتدریج اضافہ سامنے آیا ہے اور پچھلے ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 300 سے 400 روپے فی من اضافے کے ساتھ 8 ہزار 800 روپے فی من تک پہنچ گئیں ہیں جبکہ رواں ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں درجہ حرارت میں غیر متوقع اضافے سے پھٹی کی چنائی بھی کافی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث پھٹی کی آمد میں کمی کے باعث بھی پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :