Live Updates

پاکستان نے بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا

وزیراعظم عمران خان پر زور دیا گیا کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے بارے میں اپنا لہجہ نرم کریں اور انہیں اپنی تقریروں میں ایڈولف ہٹلر قرار دینے سے گریز کریں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 10:32

پاکستان نے بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 ستمبر 2019ء) : پاکستان نے بھارت کے ساتھ کسی قسم کے بیک چینل مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے تفصیلات کے مطابق کئی ممالک کے اصرار کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسلامی ممالک نے وزیراعظم عمران خان پرزور دیا کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے بارے میں اپنا لہجہ نرم کریں اور انہیں اپنی تقریروں میں ایڈولف ہٹلر قرار دینے سے گریز کریں تاہم پاکستان نے ان کی یہ درخواستیں مسترد کردیں اور کہا کہ بھارت کے ساتھ خاموش یا روایتی سفارتکاری کے تحت اسی صورت میں مذاکرات ہوسکتے ہیں جب وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیواور دیگر پابندیوں کوختم اورمقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے۔

(جاری ہے)

سعودی عرب کے نائب وزیرخارجہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ 3 ستمبر کواپنی قیادت اور بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے بھارت سے کشیدگی کم کرنے کا پیغام لے کر ہی آئے تھے۔اس دورے میں سعودی نائب وزیرخارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارت کے وزیرخارجہ عبداللہ بن النہیان نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقاتیں کی تھیں ۔

وہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملے تھے۔ یہ ملاقاتیں اتنی خفیہ تھیں کہ وزارت خارجہ کے صرف سینئر حکام کو ہی ان میں بیٹھنے کی اجازت تھی۔ ایک اعلیٰ افسر کے بقول سعودی اور اماراتی ایلچیوں نے کشمیر پر کشیدگی ختم کروانے کی بھی پیشکش کی تھی۔ وہ دونوں ملکوں کو بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہتے تھے۔

وہ مقبوضہ کشمیرمیں پابندیاں ختم کروانے کے لیے بھارت کو اس بات پر آمادہ کرنے کو بھی تیار تھے اور ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ بھارتی وزیراعظم کے بارے میں لب ولہجے میں نرمی لائی جائے۔ 5 اگست کے بعد سے وزیراعظم عمران خان مودی کے بارے میں باربار سخت الفاظ استعمال کررہے ہیں۔ عمران خان نریندر مودی کے آرایس ایس کے ساتھ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں نازی جرمنی کے لیڈرایڈولف ہٹلر سے تشبیہہ دیتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں بھی وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ان پر کیے جانے والے سخت حملوں کی شکایت کرچکے ہیں۔ اگرچہ ان کوششوں سے پاکستان اوربھارت میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں تو مدد ملی جس کا اظہارحال ہی میں صدر ٹرمپ بھی کرچکے ہیں، لیکن پاکستان بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات شروع کرنے پر تیار نہیں ہے ۔

پلوامہ حملہ جس کے بعد دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے، پاکستان نے بعض بڑی طاقتوں کے ذریعے کشیدگی کو روکنے کے لیے بھارت سے بیک چینل رابطے کیے تھے تاہم اس بار پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ تیسرے فریق کی مداخلت اور گارنٹی کے بغیر بھارت سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا ۔ گذشتہ ہفتے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی سے انکار کیا تھا۔

پاکستان نے عالمی سطح پر کشمیرکے بارے میں ملنے والی سفارتی کامیابیوں کے بعد بھارت کے بارے میں اپنا مؤقف مزید سخت کرلیا ہے اور وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس تک اس کو برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اعلان کرچکے ہیں کہ وہ 27 سمتبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران بھارتی پالیسیوں کو بے نقاب کر دیں گے۔ اس سب کچھ کے باوجود عالمی طاقتوں نے ابھی تک پاک بھارت کشیدگی ختم کروانے کے لیے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔

وزیراعظم عمران خان کے 19 ستمبر کو دورہ سعودی عرب کے دوران بھی کشمیرکا معاملہ بات چیت میں سرفہرست ہوگا۔ 5 اگست کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اوروزیراعظم عمران خان کے درمیان 4 مرتبہ ٹیلی فون رابطہ ہوچکا ہے ۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وزیراعظم عمران خان اورمودی دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ وہ دونوں ملکوں میں کشیدگی ختم کروانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گے۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات