نواز شریف اور آصف زرداری وزیراعظم کے لیے ڈپریشن کا سبب بن گئے

وزیراعظم پریشان ہیں کہ جن لوگوں کو کرپشن کے الزام میں پکڑا ہے ان سے ریکوری کیوں نہیں ہو رہی، وزیراعظم نے تحقیقات ادارے کے سربراہ کو بلا کر نواز شریف اور زرداری سے متعلق کیا کہا؟ سینئیر صحافی کا انکشاف

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 10:49

نواز شریف اور آصف زرداری وزیراعظم کے لیے ڈپریشن کا سبب بن گئے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 ستمبر2019ء) سینئیر صحافی عمران یعقوب خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پریشان ہیں کہ جن لوگوں کو کرپشن کے الزام میں پکڑا ہے ان سے ریکوری کیوں نہیں ہو رہی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے قریبی حلقوں کے مطابق وزیراعظم عمران خانا اس وقت بہت پریشان اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو کرپشن کے الزام میں پکڑا گیا اہے ان سے پیسے واپس نہیں لیے جا رہے۔

عمران یعقوب نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ایک تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کو طلب کیا اور اس سے کہا کہ زرداری اور شریف برادران بہت کرپٹ ہیں ان سے پیسے نکلواؤ۔جس پر سربراہ تحقیقاتی ادارے نے کہا کہ جناب میں قانون کے دائرے میں رہ کر کاروائی کر سکتا ہوں اس سے باہر کچھ نہیں کر سکتا۔

(جاری ہے)

جس پر عمران یعقوب نے کہا کہ اس میں قانون کی کیا ضرورت ہے۔ہمیں پتہ ہے کہ یہ کرپٹ ہیں تو ان سے پیسے نکلواؤ۔

سینئیر صحافی نے کہا کرپٹ لوگوں سے ریکوری نہ ہونا ہی عمران خان کی ڈپریشن اور مایوسی کا سبب ہے۔خیال رہے کہ سینئر صحافی ارشد شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم ڈپریشن کا شکار ہونا شروع ہوگئے ہیں،وزیراعظم عمران خان حکومتی کارکردگی اور عوام سے کیے وعدوں بارے پریشان ہیں،اب عوام بھی کہہ رہی ہے کہ یہ وعدے نہیں سبز باغ تھے، ہارون الرشید نے کالم میں لکھا کہ وزیراعظم ڈپریشن کا شکار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار ارشد شریف نے سینئر تجزیہ کار راؤف کلاسرا کے ہمراہ نجی ٹی وی میں سینئر اینکر محمد مالک کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ احتسابی عمل سے سیاسی انجینئرنگ کا تاثر سامنے آرہا ہے جو ملک کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ مالم جبہ کیس جس میں پرویز خٹک اور اعظم خان ودیگرسب کو کلین چٹ مل جائے گی ،نیب نے شفاف تحقیقات کی ہوں گی ۔

اپوزیشن میں گرفتاریاں ہوتی ہیں لیکن یہ حکومت میں ہیں اس لیے گرفتاری نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ برٹش نیشنل زلفی بخاری کے خلاف آج سے سواسال قبل تحقیقات شروع ہوئی تھیں لیکن اب نیب پر کیس بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ میں نے نیب سے پوچھا کہ آپ پر کوئی دباؤ ڈالا جارہا ہے؟ نیب نے کہا کہ ہم پر کوئی پریشر نہیں ہے۔ اب پتا نہیں یہ کیس کس کے ساتھ لنک ہے۔ارشد شریف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کارکردگی نہ دکھانے پر اب پریشان ہونا شروع ہوگئے ہیں کہ میں نے تو یہ وعدے کیے تھے ۔ کیونکہ عوام کہہ رہی ہے کہ یہ وعدے نہیں سبز باغ تھے۔