برطانوی ماہرین نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کو اصلی قرار دے دیا

ریکارڈ شدہ مواد بشمول سکرپٹ کی کوئی ٹمپرنگ یا تبدیلی نہیں کی گئی،ویڈیو میں کسی قسم کی کوئی ایڈنٹنگ نہیں کی گئی۔ برطانوی فرمز کا پاکستان کی عدالتوں کو مخاطب کرتے ہوئے نوٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 11:55

برطانوی ماہرین نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کو اصلی قرار دے دیا
برطانیہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 ستمبر 2019ء) دو برطانوی فرانزک فرمز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کو اصلی قرار دے دیا۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ پی ایم این یو کے کے سینئیر پریذیڈنٹ ناصر بٹ نے جج ارشد ملک کی ویڈیوز ریکارڈ کی تھیں۔اب ان کی فارنزک جانچ ہو گئی ہے ارو برطانیہ کی دو الگ الگ کمپنیوں نے ویڈیو کو اصل قرار دے دیا ہے۔

ویڈیو میں آواز کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ سب کچھ اوریجنل ہے۔ان فرمز نے پاکستان کی عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے نوٹ لکھ کر دئیے ہیں کہ ان ریکارڈ شدہ مواد بشمول سکرپٹ کی کوئی ٹمپرنگ یا تبدیلی نہیں کی گئی اور ان میں کسی قسم کی کوئی ایڈنٹنگ نہیں کی گئی۔ان ریکارڈنگز کی تصدیق کے لیے ناصر بٹ کو درخواست کی تھی۔

(جاری ہے)

جب دونوں کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بارے میں بات کرنے گریز کیا۔

تاہم ایک فرم کے ذرائع کے مطابق ویڈیو کی آزادانہ جانچ کی درخواست کی گئی تھی کہ دونوں سام سنگ فونز کی غیر جانبدارانہ فارنزک تحقیق کی جائے۔ایک موبائل فون پر جج ارشد ملک کی صرف آواز ریکارڈ ہے جب کہ دوسرے پر آواز اور ویڈیو بھی ریکارڈ ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دو موبائل فونز کے علاوہ کوئی خفئی ڈیوائس اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کی گئی۔

ریکارڈنگ کے وقت ناصر بٹ کے موبائل فون سے آڈیو ریکارڈ ہوئی جب کہ جج کے سامنے بیٹھے شخص کی جیکٹ کی جیب سے ویڈیو ریکارڈ ہوئی۔ناصر بٹ نے اپنے دونوں موبائل فونز اپنے وکیل کے لاکر میں رکھوا دئیے ہیں جو نہ پاکستان بھیجے جائیں گے اور نہ ہی کسی کے حوالے کیے جائیں گے،تجزیہ کرنے والی دونوں فرمز کے ڈیجیٹل فارنزک ماہرین نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ اگر گواہی کے لیے کہیں جانا پڑاتو ہم ضرور جائیں گے۔

فارنزک رپورٹس میں ایک 35 جب کہ دوسری 40 صفحات پر مشتمل ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جس ویڈیو کا کچھ حصہ دکھایا گیا ہے تھا اس کی رپورٹ خواجہ حارث کی لیگل ٹیم کو بھیجی جائے گی اور دیگر کو خفیہ رکھا جائے گا،میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فارنزک تجزیہ کرنے والی دونوں فرمز اچھی شہرت کی حامل ہیں جو برطانیہ میں ڈییفنس اور کریمنل پراسیکیوشن کے لیے کام کرتی تہیتی ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی میں پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو دکھایا گیا تھا‘ارشد ملک وہی جج ہیں جنھوں نے گذشتہ سال نواز شریف کے خلاف ہل میٹل اور فلیگشپ ریفرنسز میں فیصلہ سنایا تھا. مریم نواز نے اپنے الزامات میں کہا کہ پاناما مقدمے میں نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک پر نامعلوم افرادکی طرف سے دباﺅ تھا. اس کے جواب میں پہلے ارشد ملک نے پہلے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں انھوں نے مریم نواز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور اس کے بعد انھوں نے چار صفحات پر مبنی ایک حلفیہ بیان پیش کیا. 10جولائی کو مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پرمزید دو ویڈیوز جاری کیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ جج ارشد ملک کی ہیں. اپنی پریس پریس کانفرنس میں مریم نواز یہ بھی کہا تھا کہ جس جج کے فیصلے کے مطابق نوازشریف 7 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں وہ خود ہی اپنے جھوٹے فیصلے کی خامیوں پر سے پردہ اٹھا رہے ہیں. مریم نواز نے کہا کہ جج نے ناصر بٹ کو بتایا کہ کچھ لوگوں نے مجھے کسی جگہ پر بلایا میرے سامنے چائے رکھی اور سامنے سکرین پر ایک ویڈیو چلا دی وہ لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے اور تین چار منٹ بعد واپس آئے تو ویڈیو ختم چکی تھی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ناں؟ کوئی بات نہیں ایسا ہوتا ہے. مریم نواز کے مطابق گفتگو کے دوران جج ناصر بٹ کو بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ خود کشی کے علاوہ کوئی رستہ بھی نہیں چھوڑتے اور ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ بندہ اس جگہ پر ہی چلا جاتا ہے جہاں پر وہ لے کر جانا چاہتے ہیں.