پہلی بار حکمرانوں کے بجائے قومی آمدن بڑھ رہی ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73%کمی بڑی کامیابی ہے،

گزشتہ چند ہفتوں میں کرنسی کی قدر بہتر ہونے سے 246 ارب روپے کی بچت ہوئی، ٹیکس دہندگان میں 6لاکھ کا اضافہ ہوا عوام کی خوشحالی اور قومی ترقی کے لئے حکومتی اقدامات کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ٹویٹ

پیر ستمبر 13:31

پہلی بار حکمرانوں کے بجائے قومی آمدن بڑھ رہی ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 ستمبر2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عوام کی خوشحالی اور قومی ترقی کے لئے حکومتی اقدامات کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر کاربند اور اقتصادی صورتحال میں بہتری کی جانب گامزن ہیں،ٹیکس ریونیو بڑھانا اور مالیاتی خسارے کو کنٹرول رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

پیر کو اپنے ٹویٹ میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں گزشتہ سال کے 509 ارب کے مقابلے میں580 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، ایف بی آر میں 6 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوا۔اس کامیابی کا سہرا عمران خان کے سر ہے جنہوں نے پاکستان میں پہلی بار ٹیکس وصولی کے فرض کو قومی تحریک کی شکل دی، پہلی بار حکمرانوں کے بجائے قومی خزانے کی آمدن بڑھ رہی ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ یہ ملک وقوم اور معیشت کے لیے خوشخبری ہے،دو سیلولر کمپنیوں سے لائسنس فیس کی مد میں 70 ارب روپے وصول ہوئے،ایک اور کمپنی سے مزید 70 ارب وصول ہونے کی امید ہے،اس سیکٹر سے مجموعی طور پر 200ارب روپے حاصل ہوں گے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73%کمی یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں واضح کمی آئی،ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری طبقے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کئے ہیں دو مہنیوں میں کوئی سپلیمنٹری گرانٹ منطور نہیں ہوئی جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں کرنسی کی قدر بہتر ہونے سے حکومت کو 246 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس سال حکومت تقریباً ایک ہزار ارب روپے نان ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس میں دو سو ارب روپے سیلو لر سیکٹر،چار سو ارب روپے سٹیٹ بنک آف پاکستان کے منافع جات اور تین سو ارب روپے آر ایل این جی پلانٹس کی نجکاری سے ملنے کی امید ہے۔