Live Updates

حکومتی وزرا بھی پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سے غیر مطمئن

عمران خان کے وزیراعظم بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوا ہے کہ صرف ہماری ''یوتھ'' ہی نہیں بلکہ ہماری اپنی بھی کئی غلط فہمیاں دور ہو گئیں، عمران خان وزیراعظم نہ بنتا تو ہمیں کبھی یہ پتہ نہ چلتا کہ حکومت چلانا کوئی مذاق نہیں ہوتا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 12:59

حکومتی وزرا بھی پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی سے غیر مطمئن
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 ستمبر 2019ء) : پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال گزرنے کے بعد جہاں عوام موجودہ حکومت سے مایوس ہوتی نظر آتی ہے وہیں دوسری جانب حکومتی نمائندے بھی حکومتی کارکردگی سے مایوس ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے سینئیر کالم نگار حامد میر نے کہا کہ اسلام آباد کی منسٹرز کالونی میں وزیر صاحب ڈرائنگ روم میں بٹھانے کے بجائے ہمیں اپنے گھریلو دفتر میں لے گئے اور بڑے یقین سے کہا کہ یہ محفوظ جگہ ہے اور یہاں کی دیواروں کے کان کاٹے جا چکے ہیں۔

ہمارے موبائل فون بھی لے لیے گئے اور ہر طرح کا اطمینان کرنے کے بعد وہ وزیر جو چند منٹ قبل وزیراعظم کی میانہ روی پر گفتگو کر رہا تھا۔ اپنے ساتھی کو کہنے لگا اب تجھے سمجھ آئی میں ٹی وی پر کیوں نہیں جاتا؟ مجھے پتی ہے کہ میں ٹی وی پر جاؤں گا تو مجھ سے اچھا کوئی بول نہیں سکتا، اچھا بولوں گا تو میرے اپنے ہی ساتھی میرے خلاف سازشیں کریں گے اور پھر میرا وہی حشر ہو گا جو اسد عمر اور عامر کیانی کا ہو چکا ہے۔

(جاری ہے)

اس وزیر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو کیپٹل ٹاک میں عمران خان کی گفتگو سُن سُن کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے لیکن آج ہمارے وزیراعظم کو اُن لوگوں نے گھیرا ڈال رکھا ہے جو کیپٹل ٹاک میں عمران خان کی ایسی تیسی کیا کرتے تھے۔ اگر عمران خان وزیراعظم نہ بنتا تو ہم یہی سمجھتے کہ ہمارا خان صاحب بڑا اصول پسند انسان ہے اور اس کے پاس پاکستان کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔

میں نے نکتۂ وضاحت پر کہا کہ پیارے دوستو جب جیو نیوز پر کیپٹل ٹاک شروع ہوا تو مشرف کا دور تھا، نواز شریف سعودی عرب اور محترمہ بے نظیر بھٹو دبئی میں تھیں، پاکستان میں ایک سیاسی خلا تھا۔ مشرف کو للکارنے والا کوئی نہ تھا لہٰذا ہم مشرف کی ناراضی مول لے کر عمران خان کے ذریعہ سیاسی خلا پُر کرتے رہے لیکن جب عمران خان ایک سیاسی طاقت بن گیا تو پھر مشرف کے ساتھیوں نے اُسے ہائی جیک کر لیا۔

ایک وزیر نے میری اس گستاخی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہوا بہت اچھا ہوا۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوا۔ دوسرے وزیر نے تڑپ کر پوچھا کہ کیا فائدہ ہوا؟ ہم نے کراچی میں کچرا ختم کرنے کی مہم شروع کی اور ہماری سیاست کا کچرا بن گیا۔ پہلے وزیر نے بڑے اطمینان سے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوا کہ صرف ہماری ’’یوتھ‘‘ نہیں بلکہ ہماری اپنی بھی کئی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔

یاد کرو ہمارے خان صاحب مُکے لہرا کر کہا کرتے تھے کہ اگر میں وزیراعظم بن گیا تو صرف نوے دن میں کرپشن ختم کر دوں گا لیکن حکومت میں آنے کے ایک سال کے بعد پشاور میں بی آر ٹی کا منصوبہ ہم سب کے لیے ایک گالی بن گیا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے بغیر حکومت چلا لیں گے اور اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو خودکشی کر لیں گے لیکن ہمیں آئی ایم ایف کے پاؤں پڑنا پڑا اور آئی ایم ایف نے ہمارے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

عمران خان وزیراعظم نہ بنتا تو ہم یہی سمجھتے کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانا اور گورنر ہائوس کی دیواریں گرانا بہت آسان ہے، ہم یہی سمجھتے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانا اور قرضوں کا بوجھ اتارنا بہت آسان ہے، حکومت میں آ کر ہم نے قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے کا یہ فائدہ ہوا کہ ہماری غلط فہمی دور ہو گئی کہ ہم کوئی نیا پاکستان بنا رہے ہیں کیونکہ چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو جس طرح ناکام بنایا گیا اس سے ہمیں پتا چل گیا کہ نئے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کتنی ضروری ہے اور اس کام میں ہم نواز شریف اور آصف زرداری کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں۔

عمران خان کے وزیراعظم بننے سے یہ پتہ بھی چل گیا کہ بھلے حکومت کے تمام ادارے وزیراعظم کی حمایت کرتے رہیں لیکن سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ اگر قانون سب کے لیے برابر نہ ہو تو جیلیں آباد اور مارکیٹیں ویران ہو جاتی ہیں۔ میں نے پوچھا قانون کی بالادستی کا کیا مطلب ہے؟ وزیر صاحب نے کہا آپ اپوزیشن کو چھوڑیں، یہ دیکھیں کہ ہماری کابینہ میں ردوبدل کا معیار کیا ہے؟ عامر کیانی کو صرف ایک الزام پر وزارت سے ہٹا دیا گیا لیکن آج تک الزام ثابت نہیں ہوا۔ عون چوہدری کو بغیر کسی چارج شیٹ کے ہی ہٹا دیا گیا۔ ہم نے حکومت اور قانون دونوں کو مذاق بنا دیا ہے اور عمران خان وزیراعظم نہ بنتا تو ہمیں کبھی یہ پتہ نہ چلتا کہ حکومت چلانا کوئی مذاق نہیں ہوتا۔
نواز شریف ہسپتال منتقل سے متعلق تازہ ترین معلومات