Live Updates

بھارتی سپریم کورٹ کامودی سرکارسے مقبوضہ وادی کے حالات معمول پر لانے کا حکم

سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو حراست میں لیے جانے پر مودی حکومت کو نوٹس، تیس ستمبر تک جواب طلب کرلیا

پیر ستمبر 13:31

بھارتی سپریم کورٹ کامودی سرکارسے مقبوضہ وادی کے حالات معمول پر لانے ..
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2019ء) ہٹلر کی راستے پر چلنے والے بھارتی وزیراعظم مودی کو اپنے ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے نئی دہلی انتظامیہ کو مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دے دیا ہے۔اس کے علاوہ بھارتی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ کو حراست میں لیے جانے پر مودی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے تیس ستمبر تک جواب طلب کرلیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بھارتی سپریم کورٹ کی اگلی سماعت تیس ستمبر کو ہوگی اور بھارتی حکومت تیس ستمبر تک اپنا جواب جمع کرانے کی پابند ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میںپیر کو کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کی کشمیر سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،جہاں بھارت کی اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس نے مقبوضہ کشمیر کے حالات معمول پر لانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو خود مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروں گا۔

(جاری ہے)

بھارتی سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ مودی سرکار کشمیریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنائے ساتھ ہی عدالت نے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو کشمیر کا دورہ کرکے صورتحال پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

بھارتی اعلیٰ عدلیہ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ غلام نبی آزاد ، بارہ مولا ، سری نگر اور اننت ناگ کا دورہ کریں گے۔اس کے علاوہ بھارتی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ کو حراست میں لیے جانے پر مودی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے تیس ستمبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بھارتی سپریم کورٹ کی اگلی سماعت تیس ستمبر کو ہوگی اور بھارتی حکومت تیس ستمبر تک اپنا جواب جمع کرانے کی پابند ہے۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات