مشرقی وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے، امریکا نے تیاری پکڑ لی، سعودی عرب کی ہاں کا انتظار

آئل ریفائنری پر حملہ کرنے والے مجرموں کو جانتے ہیں لیکن سعودیہ کی جانب سے نام سامنے لانے کے منتظر ہیں،ہمارے ہتھیار تیار ہیں،یہ جاننا بھی اہم ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کن شرائط پر آگے بڑھیں گے۔ امریکی صدر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 13:27

مشرقی وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے، امریکا نے تیاری پکڑ لی، سعودی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16ستمبر 2019ء) : سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی صدر نے سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی پیشکش کی تھی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو پیشکش کی کہ امریکا سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں مد دینے کو تیار ہے جس پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی حوالے سے میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔امریکی صدر نے سعودی عرب کو اپنے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔

(جاری ہے)

تاہم سعودی آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد مشرقی وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے خلاف جوابی کاروائی کرنے کو تیار ہیں تاہم سعودی عرب کی جانب سے حملہ آور کا نام سامنے لانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب پر حملہ کرنے والے کو جانتے ہیں جو اب ہمارے نشانے پر ہے۔ہم ہتھیار کے ساتھ تیار ہیں۔اس حوالے سے دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کر رہے ہیں تاہم سعودی عرب کی جانب سے حملہ آور کا نام سامنے لانے کے منتظر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کن شرائط پر آگے بڑھیں گے۔یاد رہے سعودی عرب میں دو آئل ریفائنریز پر ڈرون حملے کیے گئے جس کے سبب سعودی عرب کی آدھی سے زیادہ آئل پروڈکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں۔ مائیک پومپیو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں۔

ہومپیو نے مزید کہا ہے کہ شدت پسندی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کئے گئے ہوں۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انرجی مارکیٹ کو آئل فراہم کیا جا رہا ہے جب کہ اس جارحیت کا ذمہ دار ایران ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دے دیا ہے۔واضح رہے کہ ایران نے مذکورہ الزامات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔