کھجورکے درخت کی اوسط عمر 150سال تک جا پہنچی، پنجاب میں کھجور کی کاشت کا رقبہ بھی 90 ہزارہیکٹر ہو گیا ،باغبان کھجورکاشت کرکے بہترین پیداوار حاصل کرسکتے ہیں

پیر ستمبر 14:24

فیصل آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 ستمبر2019ء) ماہرین زراعت نے بتایا کہ کھجورکے درخت کی اوسط عمر 150سال تک جاپہنچی ہے جس کی کاشت گزشتہ 5ہزار سال سے انتہائی کامیابی سے جاری ہے نیز پنجاب میں کھجور کی کاشت کا رقبہ بھی 90ہزارہیکٹر ہو گیاجبکہ باغبان زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کھجورکاشت کرکے بہترین پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ پنجاب میں کھجورکی کاشت سے 570 سے 630ہزار ٹن تک سالانہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے جبکہ اس کی اوسط پیداوار فی پو دا اڑھائی سے تین من تک ہوتی ہے ۔

انہوںنے بتایاکہ کھجورکی فصل کیلئے خشک اور گرم مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے جس میں گرمی کی شدت زیادہ اور نمی کم ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ کھجورکی فصل میں سیم و تھور برداشت کرنے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ کھجور انسانی جسم میں نئے خلیوں کو شفاف خون فراہم کرنے اور خون کی تیاری میں بھرپورمدد فراہم کرتی ہے جس میں میگنیشیم ، کیلشیم ، آئرن ، فاسفورس اور دیگر معدنیات ، وٹامن اے ، بی ، سی و لحمیات اور 70سی75فیصد تک نشاستہ کے اجزاء پائے جاتے ہیں۔

انہوںنے اے پی پی کو بتایاکہ پاکستان آسٹریلیا ، بنگلہ دیش ، کینیڈا ، یونان ، ڈنمارک ، بھارت ، جرمنی ،نیپال ، سپین ،سری لنکا، امریکہ ، فرانس ، برطانیہ سمیت کئی دیگر ممالک کو کھجوربرآمد کررہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ باغبان کھجورکے پودے کا پودے سے فاصلہ 20سی25 فٹ تک رکھیں اورفی ایکڑ پودوں کی تعداد 90سے 110کے درمیان ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ باغبان مزیدرہنمائی کیلئے ماہرین زراعت کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔