الیکشن کمیشن نے مریم نواز کے پارٹی عہدہ کے خلاف پی ٹی آئی اراکین کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا (آج) سنایا جائیگا

از شریف کو جس بنیاد پر نااہل کیا گیا ہے، دیکھنا پڑے گا کیا پارٹی صدر کے علاوہ اس کیس پر نافذ العمل ہو سکتا ہے، ممبر الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ میں نااہل سزا یافتہ شخص پر پارٹی صدارت یا عہدہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے،۔ممبر کے پی مسز ارشاد قیصر کے ریمارکس

پیر ستمبر 15:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2019ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کے پارٹی عہدہ کے خلاف پی ٹی آئی اراکین کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو (آج) منگل کو سنایا جائیگا ۔ پیر کو الیکشن کمیشن میں مریم نواز کے پارٹی عہدہ کے خلاف ملیکہ بخاری کی درخواست پر سماعت چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کی ۔

مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ خان، وکیل (ن )لیگ جہانگیر جدون اور ملیکہ بخاری کے وکیل حسن مان الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے ۔ملیکہ بخاری کے وکیل حسن مان نے دلائل دیئے کہ مریم نواز پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتیں، رائے حسن نواز جنوبی پنجاب کے صدر کے عہدے سے متعلق کیس میں ان کو نااہل کیا گیا۔

(جاری ہے)

ممبر کے پی مسز ارشاد قیصر نے کہاکہ نواز شریف کو جس بنیاد پر نااہل کیا گیا ہے، دیکھنا پڑے گا کیا پارٹی صدر کے علاوہ اس کیس پر نافذ العمل ہو سکتا ہے۔

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے استفسار کیا کہ مسلم لیگ (ن )کے پارٹی آئین میں اہلیت اور نااہلیت سے متعلق کیا درج ہے۔ وکیل نے کہاکہ مجھے ن لیگ کے پارٹی آئین کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ممبر کے پی مسز ارشاد قیصر نے کہاکہ مریم نواز پارلیمنٹ کی رکن نہیں ہیں ،کیا آرٹیکل 62 اور 63 کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔ وکیل حسن مان نے کہاکہ نواز شریف اور مریم نواز نیب کورٹ سے سزا یافتہ ہیں۔

پی ٹی آئی وکیل نے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا ۔ وکیل حسن مان نے کہاکہ سپریم کورٹ واضح طور پر کہ چکی ہے ،نااہل،سزا یافتہ شخص پارٹی صدارت نہیں رکھ سکتا۔ ممبر خیبر پختون خوا ارشاد قیصر نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن ایکٹ کے نافذ ہونے سے پہلے کا ہے۔،ممبر کے پی کے نے کہاکہ الیکشن ایکٹ میں نااہل سزا یافتہ شخص پر پارٹی صدارت یا عہدہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کی شق 203 کو آرٹیکل 62 ، 63 اور 63 اے کے ساتھ ملا کر پڑھنے کا کہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن ایکٹ کی شق 203 پارٹی عہدہ سے متعلق ہے،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر رائے حسن نواز کو انہیں گراؤنڈز پر نااہل کرچکا ہے۔وکیل پی ٹی آئی نے کہاکہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں پارٹی عہدہ رکھنے کیلئے اہل نہیں۔

ن لیگ کے وکیل جہانگیر جدون نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ درخواست گزار مریم نواز کی تقرری سے متاثرہ فریق نہیں ہے۔ جہانگیر جدون نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے الیکشن چیلنج ہونے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ اس کیس میں پارٹی الیکشن چیلنج ہوا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ یہاں بات ایک شخصیت کے تقرر کی ہو رہی ہے۔

جہانگیر جدون نے کہاکہ پارٹی آئین میں نائب صدر کے اختیارات درج نہیں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پارٹی صدر چاہے تو کسی نائب صدر کو قائم مقام صدر کے اختیارات دے سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب نائب صدر کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں تو کسی کی تقرری پر اعتراض بلاجواز ہے۔ مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ آئین کی کسی شق کو قانون کے ساتھ ملا کر نہیں ۔

وکیل مریم نواز نے کہاکہ پارٹی کا حصہ بننا، عہدہ رکھنا کسی شخص کا بنیادی حق ہے۔وکیل مریم نواز نے کہاکہ آرٹیکل 62،63 اور 63 اے کو الیکشن ایکٹ کی شق 203 کے ساتھ نہیں پڑھا جاسکتا۔وکیل مریم نواز نے کہاکہ مریم نواز کے وکیل نے بے نظیر بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا ۔ مریم نواز کے وکیل نے کہاکہ آرٹیکل 17 اور بے نظیر بھٹو کیس کے مطابق آئین کو قانون کی کسی شق کے مطابق نہیں پڑھا جاسکتا۔

وکیل مریم نواز نے کہاکہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ پارٹی صدارت کے علاوہ کسی اور عہدہ کیلئے نہیں۔وکیل مریم نواز نے کہاکہ کسی بھی عدالت کے پرانے فیصلوں کے مطابق فیصلے کرنا الیکشن کمیشن کیلئے لازم نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 190 میں ایسا کوئی اختیار نہیں ہے۔وکیل مریم نواز نے کہاکہ الیکشن کمیشن سے متعلق آئین میں الگ چیپٹر موجود ہیں۔ دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے کیس ک فیصلہ محفوظ کر لیا جو منگل کو سنایا جائیگا