دنیا لاشعوری طور پر مکمل ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، بین الاقوامی تعلقات کے روسی ماہر کا تجزیہ

پیر ستمبر 17:36

دنیا لاشعوری طور پر مکمل ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، بین الاقوامی تعلقات ..
ماسکو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 ستمبر2019ء) دنیا لاشعوری طور پر مکمل ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بے حس عالمی اشرافیہ کو خونریزی کا کوئی خوف نہیں۔ یہ بات بین الاقوامی تعلقات کے روسی ماہر سرگئی کراگنوف نے روسی ٹی وی کو ایک انٹر ویو میں کہی۔ ہائیر سکول آف اکنامکس ماسکو کے ڈین سرگئی کراگنوف نے مزید کہا کہ محض جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محددوکرکے ایٹمی جنگ کو نہیں روکا جا سکتا۔

بے حس عالمی اشرافیہ جس نے اپنی زندگی میں کوئی عالمی جنگ نہیں دیکھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایسی کوئی جنگ نہیں دیکھے گی لیکن یہ ان کی خطرناک خوش فہمی ایک تباہ کن جنگ کو دعوت دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے لیکن گذشتہ کئی عشروں سے ایک طرح کی خاموشی طاری ہے اور کوئی ایسی بڑی جنگ نہیں ہوئی جس سے بڑی عالمی طاقتیں متاثر ہوں۔

(جاری ہے)

اس کی ایک وجہ جوہری ہتھیار بھی ہیں۔ان ہتھیاروں کے خوف نے ہی سرد جنگ کو حقیقی جنگ میں بدلنے سے روکے رکھا اور بڑی طاقتیں براہ راست تصادم کی بجائے پراکسی وارز لڑتی رہیں۔اس کا نتیجہ ایسی صورتحال میں برآمد ہوا جس میں عالمی طاقتوں کے رہنمائوں کو عالمگیر جنگ کے خطرے کا صحیح ادراک نہیں رہا۔روسی ماہر نے کہا کہ گذشتہ نسلوں کو عالمی جنگ کے خطرے کا شدت سے احساس تھا کیونکہ یا تو وہ ان لوگوں کی اولاد تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم لڑی تھی یا انہوں نے خود اس عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا لیکن موجودہ نسل عالمی جنگ کو ہلکا لیتی ہے۔

ان کی اس سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کو ایک عالمی جنگ کا خطرہ اس سے بھی زیادہ ہے جب سابق سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔آج کی کچھ عالمی طاقتوں کے رہنمائوں کا خیال ہے کہ امن سے رہنا ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے اور ان کے ملک سے دور جاری کوئی چھوٹی جنگ عالمی ایٹمی جنگ میں تبدیل نہیں ہو سکتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی جنگوں کو روکنے کے پرانے مکینزم تیزی سے فرسودہ ہو رہے ہیں۔

حال ہی میں امریکہ نے سرد جنگ کے زمانے کے معاہدے آئی این ایف سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ نیو سٹارٹ نامی معاہدے کی مدت میں بھی 2021 کے بعد توسیع نہیں کی جائے گی۔امریکہ نے اپنی جوہری پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ کسی سائبر حملے کے جواب میں جوہری حملہ کر سکتا ہے۔امریکی فوج کے جنرل ایٹمی ہتھیاروں کا سائز کم کرکے یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں عام جنگوں میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

1970 کے عشرے میں جوہری اور روایتی ہتھیاروں میں فرق واضح تھا لیکن اب یہ فرق پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔جوہری وار ہیڈ کے ساتھ کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، فوجی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے والے میزائلوں، ہائپر سونک گلائیڈرز اور کمپیوٹر وائرسز نے صورتحال کو بے حد پیچیدہ بنا دیا ہے۔1960 اور 1970 کے عشرے کے برعکس اب دو متحارب فریقوں کی طاقت کے موازنہ کا عمل بے حد مشکل ہو چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بعض بڑی طاقتیں دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے خبط میں بھی مبتلا ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں چین اور سائبر ہتھیاروں جیسے نئے عوامل کو شامل کرتے ہوئے عالمی جنگوں کو روکنے کے موثر نئے مکینزمز کی تشکیل بے حد ضروری ہے۔