Live Updates

بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوستان کے بیانیہ کو ملیا میٹ کر دیا ہے،

پاکستان نے ہمیشہ بھارتی یکطرفہ سیاہ عمل کی بھرپور مذمت کی،وزیراعظم عمران خان نے جوش کے ساتھ مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا ، ہوش کے ساتھ عالمی برادری کو باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر انسانیت کا مسئلہ ہے ستمبر کو وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی اجلاس میں تاریخی خطاب ہو گا، عمران خان پہلے وزیراعظم ہوں گے جو کشمیریوں کے وکیل بن کر یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتا ہوا ظلم آخری سانسیں لے رہا ہے، پاکستان اس ظلم کے ہمیشہ کیلئے خاتمے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، اس وقت مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ یکہجہتی کیلئے سیاسی اے پی سی ہونی چاہئے چوروں اور ڈاکوئوں کے لئے نہیں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب

پیر ستمبر 18:45

بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوستان کے بیانیہ کو ملیا میٹ کر دیا ہے،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 ستمبر2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوستان کے بیانیہ کو ملیا میٹ کر دیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ بھارتی یکطرفہ سیاہ عمل کی بھرپور مذمت کی، اسے مکمل مسترد کیا، جنگیں جوش سے شروع ہوتی ہیں لیکن انہیں ختم کرنے کیلئے ہوش کا سہارا لینا پڑتا ہے، عمران خان واحد لیڈر ہیں جو ہوش اور جوش دونوں کا استعمال کرنا جانتے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے جوش کے ساتھ مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا اور ہوش کے ساتھ عالمی برادری کو باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر انسانیت کا مسئلہ ہے،27 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تاریخی خطاب ہو گا، عمران خان پہلے وزیراعظم ہوں گے جو کشمیریوں کے وکیل بن کر یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتا ہوا ظلم آخری سانسیں لے رہا ہے، پاکستان سیاسی، سفارتی، میڈیا، کمیونیکشن حکمت عملی کے ذریعے اس ظلم کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، چوروں، ڈاکوئوں کیلئے نہیں بلکہ اس وقت مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے ساتھ یکہجہتی کیلئے سیاسی اے پی سی ہونی چاہئے۔

(جاری ہے)

وہ پیر کو یہاں آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ چیئرمین مشائخ و علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ پیر سلطان فیاض الحسن قادری، جموں و کشمیر سالڈیٹری موومنٹ (جے کے ایس ایم) کی چیئرپرسن عظمیٰ گل، بھیرہ شریف کے گدی نشین پیر حسنات، خالد سلطان، مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، مولانا فضل الرحمان خلیل سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ علماء مشائخ کی کثیر تعداد کانفرنس میں شریک تھی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مشائخ عظام حکومت کے کرنے والا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے ذریعے علماء و مشائخ قیام پاکستان سے لے کر استحکام پاکستان تک کے فریضے کو ادا کرنے کیلئے یکجا ہو کو کشمیر کاز کو اجاگر کر رہے ہیں، مسئلہ کشمیر سیاسی نہیں ہماری بقاء کا مسئلہ ہے، جہاں عزتییں دائو پر لگ جائیں وہاں سب کو ایک ہونا پڑتا ہے، مشکل وقت پر قوم کے نام پر سیاست کے چمپیئنز کو قوم دیکھ رہی ہوتی ہے کہ بحرانی صورتحال میں میں ان کا کیا کردار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں سے جو پیغام نکلنا ہے وہ تین اہم جگہوں پر سنا جانا ہے ،سب سے پہلے پاکستان کے اندر ہونے والی ہر سرگرمی کو 22کروڑ عوام دیکھتی ہے کہ جس کا نام پاکستان کی شناخت کے ساتھ جڑا ہے اس کا پاکستان کے ساتھ کلمہ طیبہ کا رشتہ ہے، اس کی مشکل اور مصیبت کے وقت میں ہمارا کیا کردار رہا اورنام نہاد ریاستی دہشت گرد کی قید میں جوکشمیر کا حصہ ہے اس کو آزاد کرانے کے لئے کیا کوششیں کیں گئیں ۔

اس کے بعد لائن آف کنٹرول کے اس پار 20لاکھ کشمیری جوجبر ،طاقت ،استحصال اور بندوقوں کے سائے میں اپنے حقیقی ،اصولی موقف پر کھڑے ہو کرڈٹ کر اپنا بیانیہ دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں، وہ بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی آواز ہمارے موقف کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے کہ نہیں ،تیسرا فورم عالمی میڈیا ،بین الاقوامی طاقتیں، ڈپلومیٹک کور ہے جوایسی سرگرمیوں کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں ۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جہاں نظریات کا ٹکرائو ہوتا ہے وہاں حق اور باطل میں جنگ ہوتی ہے ، باطل مٹنے کے لئے اور حق فتح کے لئے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت الاسلام ہند کا مودی کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہونا باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں کشمیریوں کی بڑی تعداد قیام پذیر ہے،میرا حلقہ انتخاب بھارتی جارحیت کا سب سے زیادہ نشانہ بنتا ہے،فخر ہے کہ قوم کو وزیراعظم عمران خان جیسا جرات مند لیڈر ملا ہے جس نے مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراسے للکارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس کونسل اجلاس کا اعلامیہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، یورپی یونین کی پارلیمان میں کشمیر کا مسئلہ پہلا دفعہ زیر بحث آ رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کررہی ہے، عالمی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،آل پارٹیز کشمیر کانفرنس کا اعلامیہ عالمی برادری کو موثر پیغام دیگا۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ یقین دلاتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کیا جائے گا،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،کشمیر کاز پر حکومت پاکستان کشمیریوں کی آواز بنے گی،مظلوم کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ ان کے ساتھ ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام کا دکھ ،درد محسوس کرتے ہیں،کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار ہے،وہ دن دور نہیں جب ظلم کی یہ تاریکی ختم ہوگی،کشمیر ایک دن ضرور پاکستان بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی بیانیے کیساتھ کھڑے ہونے پر علماء و مشائخ کو سلام پیش کرتی ہوں،کشمیر کاز کیلئے لڑنے والی حریت قیادت اور دیگر بہن بھائی اکیلے نہیں۔ جموں و کشمیر سالیڈیٹری موومنٹ کی چیئرپرسن عظمیٰ گل نے کہا کہ بھارت ایسے منصوبوں پر کام رہا ہے جس پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسائے گا، ہمیں اس حوالہ سے پہلے سے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آج افغانستان میں طالبان 80 فیصد سے زیادہ رقبہ پر قابض ہیں اور تمام تجارتی راستوں پر انکا قبضہ ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد قوم کو متحرک کرنے ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو دنیا بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، ہمیں امید ہے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور اپنی آزادی حاصل کرنے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کے پاکیزہ خون کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا مظفرآباد میں خطاب شاندار تھا، ہمیں اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہئے اورقومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت کو شکست کا سامنا ہے، وہ اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو رہا، اسے ہر محاذ پر منہ توڑ جواب مل رہا ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیریوں کا حق ہے انہیں حق خودارادیت ملنا چاہیے۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اس وقت فضا ایسی بن رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کشمیر یوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا شروع ہوگئے ہیں،جس خاص طور پر عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی کی بڑی تنظیمیں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا پیغام کہ میں کشمیریوں کا سفیر ہوں اس سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک دن کشمیر نے پاکستان بنناہے بس ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔اس موقع پر کانفرنس کے منتظم پیر فیاض الحسن قادری نے کہا کہ پاکستان کے مشائخ علماء مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم کسی بھی صورت کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا ملک میں اقلیتوں کے ساتھ خاص طور گھوٹکی میں پیش آنے والے کے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کشمیر کاز کے لئے پوری قوم کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس موقع پر اعجاز الحق نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز وقت کی ضرورت ہیں تاکہ دنیا کو پتہ کشمیریوں پر بھارت کیا مظالم ڈھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ نہایت اہم ہے جس کا مرکزی نقط کشمیر ہے اورن مقصد کے لئے تمام قومی قیادت کو متحد ہونا چاہیے۔

انہوں نے آج کشمیریوں کی نظریں اقوام متحدہ پر نہیں بلکہ پاکستان پر ہیں، ہمیں انکی ہر سطح پر مدد کرنی چاہیے۔انہوں کہا کہ اس وقت دنیا کی سب بڑی دہشت گری کشمیر میں ہورہی ہے، ہمیں بھارت پر زیادہ سے دباؤ بڑھانا چاہئے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ عبدالرشید ترابی نے کہا کہ کشمیر میں عوام کا اپس میں رابط منقطع ہے کسی کا کوئی پتہ نہیں۔

قائدین کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے۔بھارت یہ سمجھتا تھا اس سے کشمیریوں کے حوصلے پست ہوں گے مگر ایسا نہیں ہوسکا بلکہ اس اقدام سے کشمیریوں ارادے اور مضبوط ہوئے ہیں۔فاروق عبداللہ اب کہنے پر مجبور ہوگیا ہے ہم سے غلطی ہوئی ہے ہمارا بھارت کی طرف جھکاؤ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کشمیریوں کے حوالے سے دوٹوک پیغام دیکر کشمیریوں کے حوصلے بلند کئے ہیں۔

انہوں کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے جس میں دنیا بھر کے وزرائے خارجہ کومدعو کیا جائے۔اس موقع پر حریت رہنما یوسف نسیم نے کہا کہ بھارتی فوج اور سیاست دانوں کو یہ منصوبہ بندی کے لیے ساڑھے آٹھ سو سال لگ گئے اور خطہ پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے مگر اسے منہ کی کھانی پڑے گی اور وہ اپنے مزموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں مگر مسئلہ کشمیر بغیر جنگ کے حل ہوتا نظر نہیں آ رہا، ہمیں بھارت کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ بھارت کی بھرپور کوشش ہوگی بیس کیمپ میں ایسے لوگ پیدا کئے جائیں جو کشمیریوں کو پاکستان سے دور کریں۔اس موقع پر عظمیٰ حمید گل نے کہا کہ تھا بھارت ایسے منصوبوں پر کام رہا ہے جس پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسائے گا، ہمیں اس حوالے سے پہلے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج افغانستان میں طالبان 80فیصد سے زیادہ رقبہ پر قابض ہیں اور تمام تجارتی راستوں پر انکا قبضہ ہے۔کانفرنس سے مولانا سجاد شاہد،طارق محمود یزدانی،سینئر صحافی حامد میر،صاحبزادہ سلطان العارفین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات